Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انھیں حالیہ دنوں میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انھیں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ براڈلے کوپر نے ایران سے متعلق فوجی حکمت عملی پر بریفنگ دی۔
امریکی صدر نے کہا کہ بریفنگ کے بعد ہمیں اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ آیا ایران کے خلاف بھرپور طاقت استعمال کی جائے یا مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔
صدرٹرمپ نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر وہ ایران پر حملہ نہیں کرنا چاہتے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ایران جوہری ہتھیار بنالے اور دنیا کے لیے خطرہ بن جائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی قیادت میں اختلافات ہیں اور مختلف دھڑے امریکا کے ساتھ مختلف نوعیت کے معاہدے چاہتے ہیں جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے ایسی شرائط پیش کی جا رہی ہیں جن سے وہ اتفاق نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ وہ جلد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون سے ملاقات کے خواہاں ہیں اور دونوں رہنما امریکا آنے والے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل