Wednesday, April 22, 2026
 

کراچی: ایندھن کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے سبب کشتی سازی مہنگی ہوگئی

 



ایندھن کی قیمتوں میں بے انتہا اضافے کے سبب ابراہیم حیدری سمیت شہر کے ساحلی علاقوں میں کشتی سازی مہنگی ہوگئی۔ ماہی گیری کیلیے تیارہونیوالی عام لانچ کی تیاری5لاکھ سے بڑھ کر7لاکھ جبکہ درمیانی لانچ کی تیاری میں بھی 2لاکھ کا اضافہ ہوگیا ،ماہی گیرلانچوں کی تیاری میں مہنگی ترین شیشم اوربرماٹیک کی لکڑی کے علاوہ دیاراورپرتل اورافریقہ سے درآمد کی گئی مہنگی لکڑی بلاوبھی استعمال کی جاتی ہے۔ پاکستان کے مقامی کشتی سازی کاہنرمتحدہ عرب امارات اورایران سمیت دیگرممالک میں مقبول ہے،شہرکی قدیم بستی ابراہیم حیدری میں نئی لانچوں کی تیاری اورپرانی لانچوں کی مرمت کا کام بھی ہوتاہے،مختلف قسم کی لکڑی سے تیارہونیوالی ان لانچوں کی تکمیل کے بعد ان لانچوں کودیدہ زیب بنانے کیلیے مختلف قسم کے رنگوں اور بعد ازاں نقوش ونگارمیں کاریگروں کی مہارت جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ ایندھن کی موجودہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے یہ قدیم اورمنفرد کشتی سازی کی صنعت بھی متاثرہوناشروع ہوگئی ہے، ابراہیم حیدری کے معروف کشتی سازجنھیں مقامی زبان میں واڈا کہا جاتاہے موجودہ مہنگائی کی لہرسے حواس باختہ دکھائی دے رہے ہیں،ابراہییم حیدری کے کشتی ساز امتیازصابری کے مطابق نئی کشتی بنوانا ماہی گیروں کے لیے مشکل ہوگیا۔ پہلے جوکشتی 5لاکھ میں تیارہوتی تھی اب اس کی لاگت 7لاکھ روپے جبکہ مذکورہ کشتی سے حجم میں کچھ بڑی لانچ کی تیاری کی لاگت بھی 2لاکھ روپے اضافے سے9لاکھ ہوگئی،واضح رہے کہ کراچی فش ہاربرسمیت شہرکے ساحلی مقامات پرچھوٹی لانچوں سیلیکر100ٹن مچھلی شکاراورانھیں اسٹور کرنیوالی دیوہیکل لانچیں بھی تیارکی جاتی ہیں۔ سب سے چھوٹی لانچ ٹکڑی کہلاتی ہے،جس میں صرف 2ماہی گیرسوارہوتے ہیں،اس کے علاوہ ہوڑی کا عملہ 5ماہی گیروں پرمشتمل ہوسکتا ہے،بڑی لانچوں کی ترتیب ڈونڈے سے شروع ہوتی ہے جو10سے12فٹ لمبی ہوتی ہے،اس میں بیک وقت 8ماہی گیرسوارہوتے ہیں،اس کے علاوہ ایک لانچ ہوڑاکہلاتا ہے،جوکہ 16فٹ سے24فٹ تک لمبا ہوتاہے،سب سے طویل وعریض لانچوں میں رچ 100فٹ لمبی ہوسکتی ہے جبکہ گوجا کی لانچ 150فٹ تک لمبی ہوسکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل