Loading
ایران میں جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے قریب آنے کے ساتھ ہی حکومت کے حق میں عوامی مظاہروں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مختلف شہروں میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر حکومتی پالیسیوں اور ملکی افواج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق خرم آباد کے مغربی علاقے میں ایک بڑی ریلی نکالی گئی، جس میں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی بھرپور شرکت کی۔ مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی حمایت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب اصفہان میں ہونے والے مظاہروں نے خاصی توجہ حاصل کی، جہاں بڑی تعداد میں برقعہ پوش خواتین بھی شریک ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق ان میں سے بعض خواتین اسلحہ جیسے کلاشنکوف اور راکٹ لانچرز سے لیس نظر آئیں، جس نے اس مظاہرے کو مزید نمایاں بنا دیا۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں نئی دھمکیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اس تناظر میں ایران میں عوامی سطح پر ردعمل اور حکومتی حمایت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مظاہرے نہ صرف داخلی سطح پر یکجہتی کا اظہار ہیں بلکہ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں ایک سیاسی پیغام بھی دیتے ہیں کہ ایرانی عوام اپنی حکومت اور دفاعی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل