Tuesday, April 21, 2026
 

آکسفورڈ سمیت 12 برطانوی یونیورسٹیز میں فلسطین کے حامی طلبہ کی جاسوسی کا انکشاف

 



برطانیہ کی معروف جامعات سے متعلق ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق آکسفورڈ سمیت برطانیہ کی 12 یونیورسٹیوں نے فلسطین کے حامی طلبہ اور اساتذہ کی جاسوسی کے لیے ایک نجی سکیورٹی فرم کو لاکھوں پاؤنڈز ادا کیے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق دستیاب شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ ان جامعات نے 2022 سے اب تک کم از کم 4 لاکھ 40 ہزار پاؤنڈ ایک انٹیلیجنس یا سکیورٹی کمپنی کو دیے، جس کا مقصد کیمپس میں ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں اور خاص طور پر فلسطین کے حامی افراد کی خفیہ نگرانی تھا۔ دستاویزات کے مطابق اس نگرانی میں نہ صرف طلبہ بلکہ ماہرینِ تعلیم بھی شامل تھے۔ ان میں ایک فلسطینی اسکالر بھی شامل ہیں جنہیں مانچسٹر یونیورسٹی میں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا، تاہم ان کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق یہ ادائیگیاں مبینہ طور پر کیمپس میں ہونے والے احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے نام پر کی گئیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں اور تعلیمی آزادی کے حامی افراد کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی تعلیمی اداروں میں آزادی اظہار اور تحقیق کے ماحول کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ جامعات کی جانب سے اس حوالے سے شفافیت بھی ایک اہم سوال بن گئی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل