Saturday, May 02, 2026
 

پھر دیکھ کیا ہوتا ہے

 



یہ اس وقت کی بات ہے جب کراچی نے اپنے پیر پھیلانے شروع نہ کیے تھے لیکن اس وقت نئی نئی آبادیاں، سوسائٹیز جن کا پچاس کی دہائی میں اجرا کیا گیا تھا تعمیر و ترقی کے مراحل میں تھیں۔ گو اس وقت کا کراچی قدرے سنسان بیابان بھی تھا لیکن سڑکیں مضبوط، سیاہ تارکول سے چمکتی دور تک جاتی نظر آیا کرتی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ کراچی کے اعلیٰ حکام کے حکم کے مطابق سڑکوں کو پانی سے دھویا بھی جاتا تھا۔ ٹرامیں سڑکوں پر آمد و رفت کے لیے چلتی نظر آتی تھیں، صدر کے علاقے میں شاید اب بھی کہیں ان ٹراموں کا کوئی سرا نظر آئے، یعنی کباڑ خانے میں۔ بہرحال کراچی، کراچی ہی تھا، جو روشنیوں کا شہر بننے جا رہا تھا اور کرتا دھرتا بھی پورے خلوص سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، کالی نیلی پیلی بھیڑیں تو ہر دور میں ہی پائی جاتی رہی ہیں تو یقینا اس دور میں بھی تھیں، لیکن نظر آنے پر شہر ہی نظر آتا تھا۔ بات ہو رہی تھی آمد و رفت، نقل و حمل کے حوالے سے جس کا ایک بڑا حصہ ریلوے پر مبنی تھا۔ اس زمانے میں پانی کے بڑے بڑے ٹینکرز نہ چلا کرتے تھے، چلتے بھی ہوں گے تو علاقے مخصوص تھے، ڈمپر مافیا کا نام۔۔۔ شاید سنا بھی نہ ہوگا کہ مال گاڑیاں چلا کرتی تھیں انھی ریل کی پٹریوں کے نزدیک ایسے پیداواری یونٹس تھے جو اپنا مال بناتے اور مال گاڑی میں لوڈ ہوتا ۔اسی طرح خام مال آتا تو مال گاڑیوں کی ذمے داری جو کم خرچ اور محفوظ طریقہ تھا۔ ایسے میں ٹرانسپورٹ کے مسائل حکومت کو گراں محسوس ہوئے کہ ناکافی بسیں اور عوام زیادہ لہٰذا 1969 میں ایک قدم آگے بڑھایا گیا، کراچی سرکلر ریلوے کا آغاز، یہ اندرون شہر چلائی گئی جو شہر کے چیدہ چیدہ علاقوں سے ہوتی گزرتی ہر علاقے میں وسیع صاف ستھرے اسٹیشن بھی بنے جو خاصے مضبوط بھی تھے۔ یہ سروس کراچی کے شہریوں کے لیے ایک تحفہ ہی تھی۔ ہر ٹرین کا وقت مقرر تھا جو شہر کے ایک سرے سے دوسرے تک چلی جاتی تھی۔ لانڈھی، ڈرگ روڈ، سائٹ، ملیر، لیاقت آباد، ناظم آباد، گلشن اقبال، چنیسر ہالٹ اور بھی نجانے کتنے اسٹیشنز تھے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے سال ہی کراچی سرکلر سے پانچ لاکھ روپے کا منافع ہوا تھا۔ ان اسٹیشنوں کے ارد گرد وسیع میدان ہوا کرتے تھے جہاں بچے، لڑکے اور عوام شام کو کھیلا کرتے اور ایک میلہ سا لگا رہتا۔ ریلوے کا ٹکٹ عام بسوں کے مقابلے میں خاصا کم ہوتا، یوں غریب عوام کے لیے رعایت تھی۔ لوگوں کی نیتوں میں وقت کے ساتھ تعصب ابھرتا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ 1980 کے بعد سے جب کراچی میں نئی آبادیاں دور دور بنتی چلی گئیں جہاں سے ایسے ریلوے اسٹیشنز کی پہنچ دور تھی، پیلے رنگ کی منی بسوں کا اجرا ہوا اور دیکھتے دیکھتے ایک بااثر ذریعہ ٹرانسپورٹ بن گیا۔ زیادہ کرایہ اور فاصلے کی نسبت عوام کے لیے سہولت تو میسر ہوئی وہیں یہ ٹرانسپورٹ غریب طبقے کے لیے مہنگی ہی رہی لیکن سرکلر ریلوے کے سحر کو توڑنے کے لیے جیسے ایک ان دیکھا مافیا سرگرم ہو گیا جس کی نظر میں دراصل یہ سستا ٹرانسپورٹ نہیں بلکہ غریب عوام کھٹکتے تھے۔ روزانہ چلنے والی کئی ٹرینیں سکڑتی گئیں۔ کراچی والے چیختے چلاتے ہی رہ گئے لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی اور کمائی کے لیے آنے والے اپنی کمائی پر لگ گئے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا اور 1990 کی دہائی تک سرکلر ریلوے میں پوری طرح گھن لگ چکا تھا کہ یہ کارروائی اندر باہر سے اسے توڑ چکی تھی۔ یہی نہیں ان کی بری نظریں ریلوے کی ان وسیع و عریض زمینوں پر بھی تھیں جو ان کے اسٹیشنز اور گزرگاہوں کے ارد گرد ان کی ملکیت تھی اور یوں ایک اچھا اور مفید سلسلہ جسے آج تک ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی نہ صرف جاری رکھا ہے بلکہ ایک بڑی آمدن کا ذریعہ بھی ہے، ختم کر دیا گیا۔ بات اگر اتنی ہی ہوتی تو صبر تھا لیکن اس کے بعد ریلوے سوسائٹی کے حوالے سے اور دیگر اداروں کی ظالمانہ کارروائیوں نے ان کم آمدنی والے لوگوں کے لیے مسائل کھڑے کر دیے جو اپنی زمین پر اپنا گھر بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے، پر خواب تو خواب ہی ہوتے ہیں، جب اندر سے گھن ہی کھا جائے تو کیا ہو سکتا ہے۔ ریلوے ٹریکس کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی، ٹھوس لوہے کے بنے ٹریکس جن کے ایک ایک پیچ بھی کس قدر مہنگے اور قیمتی ہیں، ایک بار پھر بے دردوں کے ہاتھ چڑھ گئے۔ زمینوں کی بندربانٹ، توڑ جوڑ اور سازشوں نے پوری طرح اس ادارے کو چوس لیا۔ اب بچا کچھا کچھ سامان ہی ہے۔ دیکھیے! اس کے کیا دام لگتے ہیں یا اب بھی کچھ باضمیر باقی ہیں جو اپنے ملک کی ان قیمتی نعمتوں کا خیال کریں۔ یہ سب کچھ یاد نہ آتا اگر ایک اور دل خراش خبر سے نظر نہ گزرتی۔ قیام پاکستان سے قبل جیکب آباد سے لاڑکانہ کی ریلوے لائن جو کبھی قوم کے لیے مفید تھی اور کروڑوں کا بزنس فراہم کرتی تھی، پر آج بے حسی کی حد ہے۔ یہ قیمتی ریلوے لائن جس کی طوالت سو کلو میٹر سے بھی زائد ہے اکھاڑ کر فروخت کر دیا گیا ہے، ہائے کیا زمانہ تھا جب اپنے ملک کی سڑکوں، ریلوے ٹریکس، گلیوں، بازاروں، اداروں کو اپنا سمجھا جاتا تھا۔ ذمے دار افسران کے ہمراہ نقاب پوش چور بھی تھے پر نہیں وہ دور تو گزر چکا ہے اب دور ہے تو بس اپنے خزانے بھرو، اپنا پیٹ بھرو، بس میں اور کوئی بھی نہیں۔ کلو کے حساب سے لوہا فروخت ہو کر کباڑیوں کی دکانوں پر پڑا ہے نہ جانے کہاں سے کہاں جا پہنچے گا، لیکن ہم آج بھی ایک صدی پیچھے ہو گئے ہیں، جب انگریز سرکار اس ملک کے بارے سوچ رہی ہوگی کہ کس طرح ان دور افتادہ علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے تاکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ترسیل کی صورت حال بہتر ہو۔ وہ غیر وہ ظالم ہی تھے پر سوچتے تو تھے۔اس ٹریک کی جگہ تعمیرات کا سلسلہ آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا ہے، ترقی ہو رہی ہے پر انفرادی طور پر ہم اجتماعی طور پر بکھر گئے ہیں۔ تاجر برادری مہنگے داموں اپنے مال کی نقل و حمل کے لیے ذریعے ڈھونڈنے پر مجبور ہیں کہ ڈیزل اور پٹرول کی آگ نے ایک اور قیامت کھڑی کر رکھی ہے۔ اس پر یہ بھی ڈر کہ مال بہ حفاظت مقررہ جگہ پہنچ بھی سکے گا یا نہیں، عید قرباں سر پر ہے اور جانوروں کو شہر تک لانے کا مسئلہ درپیش ہے، کیا کوئی اتنا بااثر ہے جو تمام حالات کو جادو کی چھڑی ہلاتے درست کر سکے۔ طوفان روکنے والے روک سکتے ہیں، پر عزائم بلند ہونے چاہئیں، پھر مدد کرنے والا رب آگے بڑھ کر سب سے طاقتور ہاتھ بن جاتا ہے، صرف شرط یہ ہے کہ برائی کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہونا اور ہم پرامید ہیں کہ مایوسی رب کو پسند نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل