Saturday, May 02, 2026
 

ایران امریکا جنگ… نئی پیش رفت

 



ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی جاری ہے تاہم اس کے باوجود حالات بدستور کشیدہ اور سنگین ہیں۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری ہے۔ امریکا یہ ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ یورپی یونین کے ساتھ بھی دوری پر ہیں تاہم ایک پیش رفت یہ ہے کہ امریکا اور ایران کی حکومت کی اہم شخصیات رابطے میں ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجاویزکا مسودہ پاکستان کو بھجوایا ہے تاہم امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ اس سے مطمئن نہیں ہیں۔ ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’’ارنا‘‘ کا کہنا ہے کہ ایران نے مذاکرات سے متعلق اپنی نئی تجاویز جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے کی ہیں۔ ادھرامریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی مذاکرات کے حوالے سے ایران کی جانب سے دی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ ایران کے ساتھ ٹیلی فون کے ذریعے مذاکرات کر رہے ہیں۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ایران ہم سے ڈیل کرنا چاہتا ہے، ایران کی موجودہ قیادت کنفیوژڈ اور تقسیم ہوچکی ہے، ایران کی قیادت میںکوئی کچھ کہتا ہے اور کوئی کچھ، ایرانیوں کو یہ بھی آئیڈیا نہیں کہ ان کی قیادت کس کے پاس ہے۔ ایران کی رجیم کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے جو کچھ باتیں کی ہیں اس حوالے سے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ ایران کی رجیم تاحال مستحکم ہے اور اس کا ایران پر کنٹرول بھی واضح نظر آتا ہے۔ بہرحال یہ ایک اچھی پیشرفت ہے کہ مذاکرات کا عمل کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ اگلے روز ایسی اطلاعات بھی میڈیا میں سامنے آئیں جن میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنی آبنائے ہرمز کے بارے میں شرائط میں کچھ نرمی دکھائی ہے۔ ادھر روس کے وزیرخارجہ اور ایرانی حکام کے درمیان بھی اگلے روز ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات مثبت سمت کی طرف جا رہے ہیں۔ البتہ جمعہ کے روز صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران سے مذاکرات تو جاری ہیں تاہم یقین نہیں کہ یہ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے کیونکہ معاملات آگے نہیں بڑھ رہے، ایران پر ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں، انھیں تباہ کر دیں یا معاہدہ کر لیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں، ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے تو دنیا کو آج زیادہ خطرہ ہوتا۔ انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنا دعویٰ دہرایا کہ ایران کی نیوی، فضائیہ سب کچھ تباہ ہو چکا ہے، ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں ہم نے کامیابی حاصل کی۔ انھیں صحیح ڈیل کرنی ہوگی۔ ہم بات چیت کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں لیکن صدرٹرمپ نے ایرانی تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ صدر ٹرمپ کی حکمت عملی ایسی لگتی ہے کہ وہ دونوں جانب کھیل رہے ہیں۔ ایک جانب وہ ایران کو دھمکی بھی دے رہے ہیں اور دوسری طرف مذاکرات کی بات بھی کر رہے ہیں۔ ایرانی قیادت کے حوالے سے دیکھا جائے تو ایران کے رہبر اعلیٰ کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایرانی پاسداران کا عزم بھی سامنے آیا ہے کہ وہ جنگ کے لیے تیار ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کے دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ایران کی رجیم مستحکم ہے، اسے عوام کی حمایت حاصل ہے اور وہ رہبر کی قیادت میں متحد بھی ہیں۔ امریکا کے صدر اور ان کی ٹیم کے لیے آئینی اور قانونی مشکلات بھی پیدا ہو رہی ہیں۔ انھیں جنگ میں جانے کے لیے امریکی کانگریس کے پاس جانا پڑے گا۔ صدر ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہم ایک بڑی فتح کے درمیان میں ہیں، ایرانی قیادت آپس میں جھگڑ رہی ہے، سخت گیر اور معتدل دونوں گروپ ڈیل چاہتے ہیں مگر اپنی اپنی۔ لیکن عملی طور پر ایسی صورت حال کہیں بھی نظر نہیں آ رہی۔ قبل ازیں سی این این کو انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، امریکا کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کی اصل صورتحال سے صرف وہ خود اور چند دیگر لوگ ہی آگاہ ہیں، باقی کسی کو معلوم نہیں کہ مذاکرات کہاں تک پہنچے ہیں، اصل پیش رفت خفیہ سطح پر ہو رہی ہے، یہی وجہ ہے کہ ایسا تاثر جا رہا ہے جیسے مذاکرات بالکل رک گئے ہیں، یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ٹوٹنے کے خدشے پر بے چینی محسوس کر رہے ہیں تو انھوں نے اس تاثر کو یکسر مسترد کردیا۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدرٹرمپ نے اپنے یورپی اتحادیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے اشارہ دیا کہ اسپین اور اٹلی میں امریکی فوجی موجودگی کم کی جا سکتی ہے۔ صدرٹرمپ نے جرمن چانسلر فریڈرک مرزکو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ بہت خراب کام کر رہے ہیں۔ امریکا کے صدر کے متضاد بیانات کا جائزہ لیں تو یہی لگتا ہے کہ ایران کی مزاحمت کی وجہ سے وہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے جس کی توقع لے کر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایران پر حملہ کیا تھا۔ ایران کی رجیم بھی قائم ہے اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول بھی قائم ہے۔ امریکا نے ایٹمی تنصیبات تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن ایران کے پاس ایٹمی صلاحیت بھی موجود ہے۔ ادھر ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ہی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اس معاملے میں کئی ممالک مدد کے لیے تیار ہیں تاہم مذاکرات میں باضابطہ ثالث کی حیثیت پاکستان کوہی حاصل ہے۔ یوں پاکستان کا کردار تسلیم شدہ ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کی تعریف کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دور روس اور صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے کے تحت ایران اور روس کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون موجود ہے، اس تعاون کے نتیجے میں ہی ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطے کے بعض ممالک کی شرپسندانہ کارروائیوں پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے۔ ادھر ایران کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ کبھی مذاکرات کی میز نہیں چھوڑی ، ہم جنگ کے خواہاں نہیں، لیکن اس سے ڈرتے بھی نہیں۔ اگر ہماری عزت کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم اپنی عزت کے لیے لڑیں گے، یہ ہماری قوم کا پختہ مؤقف ہے۔ہم کسی قسم کا جبر قبول نہیں کریں گے۔ جو دشمن جارحیت اور دھمکیوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکا، وہ مذاکرات کی میز پر بھی حکم چلانے یا مطالبات مسلط کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ ایران امریکا کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔ ہم جنگی جرائم کے مرتکب افراد کا تعاقب کریں گے، انھیں سزا دلائیں گے اور ان سے معاوضہ حاصل کریں گے۔ ایرانی حکام کے بیانات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو ان حالات میں بھی ایرانی حکام کے حوصلے بلند ہیں جب کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے لیے اندرون ملک ہی آئینی اور قانونی پیچیدگیاں سامنے آ رہی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق امریکی صدر کے پاس ایران جنگ جاری رکھنے کے اختیارکی مدت ختم ہوگئی ہے۔ 1973 کے قانون کے تحت امریکی صدر وار پاورز کے اختیارات 60 روزتک جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد کانگریس سے منظوری لازمی ہے تاہم امریکی سینیٹ نے ایران میں امریکی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شِف کی جانب سے پیشکی گئی قرارداد مسترد کر دی ہے۔ قرارداد کے حق میں47 جب کہ مخالفت میں 50ووٹ پڑے۔ سینیٹ میں چھٹی مرتبہ اس طرز کے بل کو مسترد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کانگریس کے ارکان کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اور حالیہ برسوں میں دیگر فوجی تنازعات کے نتیجے میں استعمال ہونے والے امریکا کے اسلحہ ذخائر کی بحالی میں چند مہینوں سے لے کر کئی برسوں تک لگ سکتے ہیں۔ جمعہ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو سعودی عرب، مصر، ترکی، قطر، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ خبرایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ نے ان ممالک کے وزرائے خارجہ کو علاقائی پیش رفت اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایران کے موقف سے آگاہ کیا۔ عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی نمایندہ کاجا کالس سے بھی علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ خلیج کی صورت حال خاصی پیچیدہ نظر آ رہی ہے تاہم اس ساری صورت حال کا امید افزا پہلو یہ ہے کہ فریقین ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں جب کہ پاکستان بھی مسلسل ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے۔ تازہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنی شرائط میں نرمی ظاہر کی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایرانی حکام اپنے دوست ممالک کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ روس کے وزیرخارجہ اور ایران کے وزیر خارجہ کے درمیان بھی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔ خلیج کی ناکہ بندی کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں جو اتار چڑھاؤ آ رہا ہے اس سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے۔ اس لیے دنیا چاہتی ہے کہ اس جنگ کا کوئی نہ کوئی اختتام ہو جائے۔ تاہم امریکی میڈیا میں بعض اطلاعات ایسی بھی شائع ہو رہی ہیں جو امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتی ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل