Loading
وہ اپنے نحیف بیٹے کو گود میں اٹھائے کلینک کے زرد برآمدے میں کھڑی تھی، اس کی آنکھوں میں نیند نہیں، عمر بھر کی تھکن جم گئی تھی۔ ہاتھوں میں پرچیوں کا ایک ڈھیر تھا، ہر پرچی ایک نئے اسپتال،ایک نئے معالج اور ایک نئی امید کی ادھوری داستان تھی، مگر ہر کہانی کا اختتام ایک ہی جملے پر ہوتا تھا۔ ’’
مزید ٹیسٹ کروائیں... اب یہ نئی دوا آزمائیں‘‘جب اس نے لرزتی آواز میں کہا، ’’ڈاکٹر صاحب! اب میرے پاس بیچنے کو کچھ نہیں بچا‘‘ تو فضا میں ایک ایسی اُداسی چھا گئی جو الفاظ سے زیادہ نوحہ کناں تھی۔
یہ صرف ایک ماں کی کہانی نہیں، یہ اس عہد ستم رسیدہ کا وہ منظر ہے جہاں بیماری عام ہے ،مگر علاج ایک مہنگی عیاشی بن چکا ہے۔ ذرا دوسری طرف دیکھیے، ایک سفید ریش بوڑھا باپ اسپتال کی بینچ پر بیٹھا ،اپنی جیب سے مڑے تڑے نوٹ نکال کر گن رہا ہے۔
اسے بتایا گیا ہے کہ اس کے جوان بیٹے کی سانسیں برقرار رکھنے کے لیے لاکھوں روپے درکار ہیں۔ وہ نوٹوں کو نہیں، دراصل اپنی بے بسی کو گن رہا ہے۔ اس کے چہرے کی جھریاں صرف عمر کی لکیریں نہیں، اس کرب کا نقشہ ہیں جو ایک سفید پوش انسان کو اس وقت لاحق ہوتا ہے جب زندگی اور دوا کی قیمت کے درمیان توازن بگڑ جائے۔
آج کے دور میں ایسا لگتا ہے جیسے سانس لینا بھی صرف صاحب ثروت لوگوں کا استحقاق رہ گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے حالیہ اعداد و شمار روح فرسا ہیں۔ دنیا کی آدھی آبادی بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہے اور ہر سال تقریباً 10 کروڑ لوگ صرف علاج کے اخراجات برداشت کرنے کے نتیجے میں خط غربت سے نیچے چلے جاتے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک میں صورت ِحال مزید ابتر ہے۔ یہاں صحت کا بجٹ آٹے میں نمک کے برابر ہے اور کینسر، گردوں یا دل کے امراض کا مطلب ایک ہنستے بستے خاندان کی معاشی موت ہے۔ یہاں مریض انشورنس یا ریاست کے بجائے اپنی جیب پر انحصار کرتا ہے، جو اسے مقروض کر کے معاشی موت سے ہم کنار کر دیتی ہے۔
ایسے میں سوال یہ نہیں کہ کون سی دوا زیادہ طاقتور ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کون سا نظام انسان کو علاج تک رسائی دیتا ہے۔یہیں ہومیوپیتھی ایک خاموش مگر اہم دعویٰ پیش کرتی ہے۔ سادگی، کم لاگت اور کم مقدار میں علاج۔ مگر سچ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ یہ نظام بھی اسی بیماری کا شکار ہوتا چلاگیا جس کے خلاف اسے کھڑا ہونا تھا۔
ہزاروں روپے کی فیس، مہنگی برانڈنگ اور ایک ایسی فضا جہاں سادگی خود نایاب ہو گئی ہے۔ ممکن ہے یہ بات کئی سینئر معالجین کے لیے بھی نئی ہو کہ آپ کو مہنگی دوا کی بار بار ضرورت نہیں ہے۔ کسی بھی مستند دوا کے صرف دو قطرے اگر آدھا لیٹر پانی کی بوتل میں ڈال کر اسے چند جھٹکے دیے جائیں، تو وہ پورا پانی دوا بن جاتا ہے۔
اب کمال دیکھیے! اس بوتل میں سے ایک چمچ نکال کر اگر آپ ایک ہزار نئی بوتلوں میں ڈال دیں، تو وہ تمام بوتلیں بھی اسی شفائی قوت کی حامل ہو سکتی ہیں۔ مادہ جتنا کم ہوتا جاتا ہے، دوا کی لطافت اور قوت شفا میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
نظریاتی طور پر اس طریقے میں دوا کو بار بار پھیلایا جا سکتا ہے۔یہ ہی وہ پہلو ہے جو اسے معاشی طور پر اہم بناتا ہے،خاص طور پر ایسے معاشروں میں جہاں مریض کے پاس انتخاب کے وسائل محدود ہوں۔دل چسپ بات یہ ہے کہ اس طریقے میں دوا کی مقدار نہایت کم رہتی ہے۔
ایک چھوٹی سی مقدار پانی میں حل ہو کر متعدد خوراکوں میں استعمال ہو سکتی ہے، جس سے علاج کی لاگت نمایاں حد تک کم یا مفت برابر ہو سکتی ہے۔بانیِ ہومیوپیتھی ڈاکٹر سیموئل ہنیمن نے اپنی شاہ کار تصنیف ’’آرگنن آف میڈیسن‘‘ کے چھٹے ایڈیشن میں (افورزم 270 تا 272) دوا کو پانی میں حل کر کے دینے کی بھرپور وکالت کی ہے۔
کلاسیکل ہومیوپیتھی میں پانی سے دوا بنانے نیز دوا بڑھانے کا تصور موجود ہے، تاہم اس کی سائنسی توجیہہ پر مکمل اتفاق رائے نہیں پایا جاتا۔ ہومیوپیتھی کے بعض نظریہ ساز اس عمل کو اس تصور کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جسے عموماً’’پانی کی یادداشت‘‘کہا جاتا ہے۔
اس کے مطابق پانی سابقہ مادے کا پیٹرن اپنے اندر محفوظ رکھ سکتا ہے۔ نوبل انعام یافتہ فرانسیسی ماہر ِ حیاتیات لیوک مونٹی گنیئر نے بھی اس نوعیت کے ایک متنازع تصور کی طرف اشارہ کیا تھا، اگرچہ یہ نتائج سائنسی دنیا میں وسیع قبولیت حاصل نہیں کر سکے۔
اِسی طرح کچھ دیگر تجربات بھی پیش کیے گئے ہیں جنھیں اس خیال کی تائید کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، مگر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ میدان ابھی تک تحقیق اور اختلاف کا موضوع ہے، کسی حتمی اتفاق کا نہیں۔
اس لیے دیانت داری کا تقاضا یہی ہے کہ اسے ایک ہومیوپیتھک نظریہ اور عملی طریقہ سمجھا جائے، نہ کہ ایک قطعی سائنسی حقیقت۔یہاں ایک بنیادی سوال قطعی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔اگر ایک طریقہ علاج کم خرچ، نرم اور نسبتاً محفوظ ہو،تو کیا اسے صرف اس لیے نظر انداز کر دینا چاہیے کہ اس کی ہر توجیہہ ابھی مکمل طور پر سمجھ میں نہیں آئی؟
شاید مسئلہ یہاں نہیں، کہیں اور ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے علاج کودھندا بنا دیا ہے۔ ہم نے سادگی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے اور مہنگائی کو معیار کا مترادف سمجھ لیا ہے۔ہومیوپیتھی کا یہ ’’ پانی والا طریقہ‘‘ کسی معجزے کا دعویٰ نہیں، بلکہ ایک یاد دہانی ہے،ذرا تصور کیجیے، اگر علاج کے ایسے طریقے عام ہو جائیں جو کم لاگت کے ساتھ زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں،تو کتنی ماؤں کو کلینک کے باہر یہ نہ کہنا پڑے کہ’’ میرے پاس پیسے ختم ہو گئے۔‘‘
یہاں اصل سوال دوا کا نہیں، رویے کا ہے۔کیا ہم طب کو خدمت کے طور پر دیکھتے ہیں یا تجارت کے طور پر؟جدید طب اپنے بطن میں وہ تجارتی سفاکی بھی لائی ہے کہ آج علاج عام آدمی کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔
ہومیوپیتھی، اپنی اصل روح میں، ایک ہمدردانہ فلسفہ ہے،انسان کو اس کی کلیت میں دیکھنے کا فلسفہ، نہ کہ محض علامات کے مجموعے کے طور پریا دھندے کے طور پر، اگر یہ فلسفہ اپنی سادگی کھو دے، تو یہ بھی ایک اور مہنگا اور بسا اوقات مہلک نظام بن کر رہ جائے گا۔
وہ وقت کب آئے گا کہ ہم طب کو تجارت کے چنگل سے آزاد کراسکیں؟ ہومیوپیتھی صرف چند قطروں کا نام نہیں، یہ ایک ہمدردانہ فلسفہ ہے۔ قدرت نے شفا کو سستا اور سہل رکھا ہے، ہم نے اسے اپنی انا اور لالچ سے مہنگا بنا دیا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ آج کا مروجہ طبی نظام ایک بے جان اور مشینی ’’الگورتھم‘‘ بن چکا ہے، جہاں ہر مرض کا حل ایک میکانکی فارمولا اور ہر انسان محض ایک شماریاتی نمبر ہے۔ ہومیوپیتھی کی یہ سادگی اور پانی کا یہ اعجاز محض ایک طریقہ علاج نہیں، بلکہ ’’انسانی آگہی‘‘ اور ’’فطرت‘‘ کے درمیان اس ٹوٹے ہوئے رشتے کو بحال کرنے کی ایک مقدس کوشش ہے جو مادیت پرستی کے شور میں کہیں کھو گیا تھا۔
یہ ایک پکار ہے، اس سچائی کی کہ کائنات کی عظیم ترین طاقتیں مادے کی کثافت میں نہیں ،بلکہ روح کی لطافت میں پوشیدہ ہیں۔ آئیے! اس قحط مسیحائی میں قدرت کے اس سادہ پیغام کو عام کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل