Loading
پاکستان میں فلاح و بہبود کے منصوبے، خاص طور پر شہری علاقوں جیسے کراچی میں اکثر عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ جب کوئی سرکاری ادارہ سڑک، پانی، گیس، بجلی یا دیگر تعمیرات کا کام شروع کرتا ہے، تو وہ عوام کو پہلے سے مطلع کرنا ضروری نہیں سمجھتا،بس شروع ہوجاتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ گنڈاسا ہاتھ میں لیے پہنچ گئے میدان میں ۔اور ماری ایک للکار کسی میں ہمت ہے تو سامنے آئے ، ہمیں روک کے دکھائے۔ نہ ہی متبادل راستوں، دھول سے بچاؤ یا کاروبار کی حفاظت کا کوئی انتظام کیا جاتا ہے اور نہ ہی عوام کے لیے کوئی مناسب نوٹس۔
یہ مضمون اس مسئلے کی جڑ، اس کے اثرات اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالتا ہے۔ کراچی میں یونیورسٹی روڈ کی تعمیر اور اس میں غیر معمولی تاخیر ایک بہت ہی سنگین انسانی اور آئینی مسئلہ ہے جس کے فوری حل کے لیے بلدیہ کراچی، حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کو ہنگامی اقدامات لینے چاہیے۔
عام طور پر سرکاری محکمے تعمیرات شروع کرنے سے پہلے اعلان نہیں کیاکرتے یا اگر کرتے بھی ہیں تو بہت خاموشی سے اور مبہم طریقہ سے کہ عوام کو خاطر خواہ خبر بھی نہیں ہو پاتی اور ادارہ جات کام پر لگ جاتے ہیں۔ نتیجتاً دکانیں اور ہوٹل بند ہو جاتے ہیں، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو جاتا ہے۔ دھول اور مٹی سے صحت متاثر ہوتی ہے۔
کاروبار مہینوں تک بری طرح متاثر ہوتا ہے۔سرکار کا موقف ہوتا ہے کہ وہ عوام کی خدمت کر رہے ہیں، اس لیے ان تکالیف کو ضروری برائی سمجھ کر برداشت کر لینا چاہیے۔ تاہم، یہ موقف عوام کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ منصوبہ بندی کی کمی ہے۔ ملک میں سائنسی انداز میں کام کرنے کا فقدان ہے اور نہ ہی پیشگی عوامی سروے اور رائے عامہ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ تعمیراتی کاموں میں انسانی جان کی حفاظت اس کے آرام، حفظان صحت، صفائی اور ماحولیاتی تحفظ کے بین الاقوامی اصولوں کو یکسر نظر انداز کیا جاتا ہے۔
کوئی ادارہ متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے یا متبادل انتظامات کا پابند نہیں۔ عدالتی نگرانی کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے،اس قسم کے معاملات عدالتوں میں تیز رفتاری سے نہ اٹھائے جاتے ہیں اور نہ عدالتیں فوری فیصلے کرتی ہیں۔
سماجی تنظیموں کی کمزوری بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ عوام کو اپنے آئینی اور قانونی حقوق کا بھی شعور ہونا چاہیے تاکہ وہ بھی متحد ہو کر آواز اٹھائیں۔ بین الاقوامی موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں تعمیرات سے پہلے کم از کم ساٹھ سے نوے دن پہلے عوام کو تفصیلی نوٹس دیا جاتا ہے، متبادل راستے اور عارضی پل بنائے جاتے ہیں۔
دھول، شور اور حفاظت کے معیارات طے ہوتے ہیںاور ان قوانین پہ عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ آڈٹ ٹیمیں بنائی جاتی ہیں جو تعمیرات کے کام کی مسلسل نگرانی کرتی ہیں۔ متاثرہ کاروباروں کو عارضی معاوضہ یا ٹیکس میں ریلیف دیا جاتا ہے۔
اسپتالوں،اسکولوں اور مریضوں کی نقل و حرکت کے لیے خصوصی انتظامات ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں تعمیرات کا مقصد عوام کی خدمت ہوتا ہے، لیکن ہمارے ہاں نہیں۔ اس عوامی خدمت کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کو عارضی طور پر بے گھر یا بے کاروبار کر دیا جائے جیسا کہ پاکستان میں یہ عام بات ہے۔
گو کہ خود پاکستان میں ہرقسم کے منصوبوں کے لیے صوبائی اور وفاقی قوانین ماحول کے تحفظ اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کے سخت قوانین بھی موجود ہیں، مگر لگتا ہے کہ وہ موثر نہیں اور نہ ہی ان پر عمل ہوتا نظر آتا ہے۔
جب کوئی سرکاری ادارہ بغیر اطلاع اور متبادل انتظام کے سڑک توڑتا ہے، تو یہ حقوق عملاً معطل ہو جاتے ہیں۔ عدالتیں اس قسم کی درخواستوں پر سرعت سے فیصلہ کر سکتی ہیں جو کہ ان کی قانونی اور آئینی ذمے داری ہے، لیکن عوام کو اس قانونی اور آئینی راستے سے آگاہی نہیں ہوتی۔
ہمارے ہاں صورتحال یہ ہوجاتی ہے کہ اسپتالوں اورا سکولوں تک طالبعلم اور مریضوں کی رسائی مشکل ہوجاتی ہے، چھوٹے تاجر اور دکان داروں کی مہینوں کی بندش سے آمدنی ختم ہوجاتی ہے۔
مزدور اور یومیہ اجرت دار شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں کہ ان کی آمدنی کے ذرائع بند ہوجاتے ہیں۔ گھروں سے نکلنا انتہائی کٹھن اور تکلیف دہ ہوجاتا ہے اور ہر وقت ہوا میں دھول مٹی عوام کو بیمار کردیتی ہے۔ اس ضمن میں ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے؟
سرکاری اداروں کے لیے عوام کو لازمی پیشگی نوٹس دینا لازمی ہو ، کیونکہ اس میں ان کی فلاح و بہبود براہ راست ملوث ہے۔ہر بڑے منصوبے سے کم از کم 60 دن پہلے مقامی اخبارات، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر اعلان کیا جائے۔متبادل محفوظ اور مضبوط راستے تعمیر کیے جائیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں عارضی پل یا سڑک بنائی جائے۔
دھول اور شور کنٹرول کیا جائے، پانی کا چھڑکاؤ اور شور بیریئرز لازمی قرار دیے جائیں۔بارش کی صورت میں نکاسی آب کا مکمل نظام ہو اور رات کے اوقات منصوبے کے اطراف روشنی کا معقول انتظام بھی موجود ہو تاکہ لوگ حفاظت سے بلا تردد آمدو رفت جاری رکھ سکیں اور انسانی جان کو کسی قسم کا خطرہ نہ ہو۔
متبادل راستوں سے آگہی کے لیے مناسب ہدایات کے بورڈ واضح آویزاں ہوں۔ شکایت کی صورت میں متعلقہ اداروں اور انجینئر و افسران کے نام، فون اور ای میل وغیرہ نمایاں آویزاں ہوں ، تاکہ بوقت ضرورت عوام رابطہ کرسکیں۔
کسی بھی پروجیکٹ کی تعمیر کے دوارنیہ کا درست تعین ہونا ضروری ہے اور تاخیر کی صورت میں عوام کے سامنے تاخیر کی وجوہات اور وضاحت پیش کرنا بھی پروجیکٹ کا لازمی حصہ قرار دیا جائے۔ ایسے اداروں اور افسران جو تاخیر اور کوتاہی اور لاپرواہی کا سبب بنے ہوں ،ان کا مناسب احتساب بے حد ضروری ہے اور ضروری ہو تو ان سے تاوان بھی طلب کرنا چاہیے۔
متاثرہ کاروباروں کے لیے معقول معاوضہ کا اعلان ہو کم از کم ٹیکس میں چھوٹ یا نقصانات سے نمٹنے کے لیے قلیل المدتی قرضے فراہم کیے جائیں۔یہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ عدالتی نگرانی مو ثر ہو اور ہائی کورٹ کو ہر بڑے منصوبے کی اطلاع دی جائے تاکہ شکایات کا فوری ازالہ ہو سکے۔
اس سلسلے میں عوام کو آئین اور قانون کے تحت اپنے حقوق کی مکمل آگاہی لازمی ہے، تاکہ بوقت ضرورت عملی اقدامات اٹھا سکیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل