Loading
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں اور عملے کو نکالنے کے لیے شروع کیے گئے امریکی بحری آپریشن ’’ پراجیکٹ فریڈم‘‘ کو وقتی طور پر روک دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں اپنا آپریشن مبینہ طور پر اس لیے روک دیا کیوں کہ سعودی عرب نے اس مشن میں شریک امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اس سلسلے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی رابطہ کیا تھا تاہم دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر کوئی حتمی اتفاق نہ ہو سکا۔
جس کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ پاکستان کی ثالثی میں جاری امن مذاکرات میں اہم پیش رفت دیکھ رہے ہیں اسی لیے پراجیکٹ فریڈم کو وقتی طور پر روک دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اتوار کے روز صدر ٹرمپ کی جانب سے اچانک پراجیکٹ فریڈم کے اعلان پر حیران رہ گئے تھے۔
اس آپریشن کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو بحفاظت راستہ فراہم کرنا تھا جہاں ایران کی ناکہ بندی کے باعث عالمی تجارت شدید متاثر ہو رہی تھی۔
ادھر امریکی ویب سائٹ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فریقین مختصر مفاہمتی یادداشت (MOU) کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کا مقصد جنگ کا مستقل خاتمہ اور آئندہ مذاکرات کے لیے فریم ورک طے کرنا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل