Thursday, May 07, 2026
 

کراچی، بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کے سنگین الزامات، کمیشن بناکر حقیقت سامنے لانے کا مطالبہ

 



بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر امین جان کی سندھ ہائیکورٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں کمیشن بنانے اور معاملہ نیب کو بھیجنے کا مطالبہ اس لیے کیا تاکہ اصل حقیقت عوام کو معلوم ہو۔ سندھ ہائیکورٹ میں سماعت کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں بی آر ٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر امین جان نے سندھ حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابھی صرف سڑک بنارہے ہیں اصل بی آر ٹی پر کام نہیں ہورہا ہے۔ صورتحال یہی رہی تو اگلے 30 سالوں میں ریڈ لائن منصوبہ نہیں ںن سکے گا۔ کنٹریکٹر نے کہا کہ آرمی چیف اور باہر سے جب پریشر آیا ہم خوش ہوگئے کہ ہمارا مسئلہ حل جو جائے گا اور ہمارا کام جلد ہوگا، مگر حکومت نے پریشر میں آکر سارا دباؤ مجھ پر ڈال دیا کنٹریکٹ ختم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سارے ڈیزائن تبدیل کیے ہیں ابھی تک انکے پاس ڈیزائن نہیں ہیں۔  پیسوں کے لیے ڈیزائن میں تبدیلی کرتے تھے اور ہم سے پیسے ڈیمانڈ کرتے تھے، فائل کھلے گی تو سب اصل ذمہ داروں کا پتہ چلے گا ہر چیز کا ذمہ دار کنٹریکٹر نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ریزولیوشن بورڈ کا سربراہ انتہائی ایماندار تھا اس نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ اگر وہ فیصلے غلط تھے تو حکومت انکو چیلنج کرتی۔ چائینیز کمپنی اس لیے پریشان ہے کہ انکو یہاں انصاف نہیں مل رہا ہے۔ امین جان نے کہا کہ غلطی دوسروں کی ہوتی ہے ڈال ہم پر دیتے ہیں ہم نے صدر پاکستان اور وزیر اعلیٰ سندھ کو 15 اپریل خط لکھے، ہماری شکایت پر وزیر اعلیٰ نے معلومات مانگی تھی مگر 21 اپریل کو ہمارا کنٹریکٹ ہی منسوخ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر موجود سائیڈ کی سڑکیں جو یہ تین ماہ بنوا رہے ہیں وہ ہم بھی تین ماہ کرسکتے تھے، ابھی بھی وہاں ہمارے لوگ کام کررہے ہیں۔  جو چائینیز کنٹریکٹر انٹرنیشنل اربیٹریشن میں جانا چاہ رہا ہے میں اسکو روکا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف وزیر اعظم تھے میں ہزارہ موٹر وے کا پروجیکٹ 32 ماہ کے بجائے 26 ماہ میں کام مکمل کیا۔ چائینیز کمپنی نے ملتان ،پنڈی ،لاہور میں بروقت اپنا کام مکمل کیا۔ اسی کمپنی نے 5 سالوں میں 15 فیصد جبکہ میں 40 فیصد کام مکمل کیا ہے ایسا کیوں۔ اگر آپ نہیں کرسکتے تو ہم انٹرنیشنل اربیٹریشن میں چلے جاتے ہیں نقصان تو عوام ہوگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر یہی طریقہ کار رہا تو منصوبے کی لاگت 80 ارب تک جائے گا۔ لوگوں کو خاموش کرانے کے لیے سائیڈز کے روڈز بنارہے ہیں میں کہتا ہوں کمیشن بنائیں تاکہ اصل حقیقت کا پتہ چلے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل