Loading
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ای چالان کے نفاذ سے متعلق فریقین سے تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت کو موسم گرما کی تعطیلات تک ملتوی کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے نفاذ کیخلاف مختلف درخواستوں پر فریقین کو تحریری جواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت موسم گرما کی تعطیلات تک ملتوی کردی۔
جسٹس یوسف علی سعید کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو درخواستوں کی سماعت ہوئی۔
سرکاری وکیل نے ایک بار پھر تحریری جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کی۔
درخواستگزار وکیل طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ 9 ماہ گزرنے کے باوجود بیشتر فریقین نے جواب جمع نہیں کرایا جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے علاوہ کسی ادارے نے اپنا مؤقف پیش نہیں کیا۔
طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک حساس نوعیت کا مقدمہ ہے جو شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق ہے، اس لیے اس کی فوری سماعت کی جائے۔
جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیئے کہ عدالت میں آنے والا ہر مقدمہ ہی حساس اور اہم ہوتا ہے، تاہم ہر کیس کا روزانہ کی بنیاد پر فیصلہ ممکن نہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ای چالان کے نفاذ کے بعد ٹریفک حادثات میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
درخواستگزاروں کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ جرمانوں کی رقم میں 2023 کے مقابلے میں ایک ہزار سے 5 ہزار فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ ملک میں کم از کم تنخواہ 40 ہزار روپے ہے اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری کے باعث شہری اتنے بھاری جرمانے برداشت نہیں کرسکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک انجینئرنگ بیورو ایکٹ کے تحت تمام سڑکوں پر سگنلز کی ذمہ داری ڈی جی کے ڈی اے پر عائد ہوتی ہے جبکہ میئر کراچی کے ماتحت 106 سڑکیں آتی ہیں۔ عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو تحریری جواب جمع کرانے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت گرمیوں کی عدالتی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کردی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل