Loading
ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے امریکا کی نئی تجویز پر جواب آج موصول ہونے کا قوی امکان ہے جس سے تاحال جاری کشیدگی کے خاتمے کا امکان ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ آج کسی وقت ایران کا جواب موصول ہوجائے گا اگر اس میں ٹھوس لائحہ عمل ہوا تو سنجیدگی کے ساتھ عمل شروع ہوجائے گا۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی تازہ ٹوئٹ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی حدت میں کسی کمی کے بجائے شدت میں مزید اضافے کا اشارہ دے رہی ہے۔
انھوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ جب بھی سفارتی طریقے سے معاملات حل کی جانب بڑھتے ہیں تو عین اسی موقع پر امریکا خطرناک فوجی مہم جوئی شروع کردیتا ہے۔
’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کے اس عمل کو بھونڈی حکمت عملی قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ آیا یہ کسی تخریب کار (اسرائیل) کی کارستانی ہے جو ایک بار پھر امریکی صدر کو ایک نئی دلدل میں دھکیل رہی ہے؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ وجہ کچھ بھی ہو نتیجہ ہمیشہ ایک ہی رہے گا اور وہ یہ کہ ایرانی کبھی دباؤ کے آگے جھکتے نہیں ہیں۔
Every time a diplomatic solution is on the table, the U.S. opts for a reckless military adventure. Is it a crude pressure tactic? Or the result of a spoiler once again duping POTUS into another quagmire?
Whatever the causes, outcome is the same: Iranians never bow to pressure. pic.twitter.com/ev7dMIebNB
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) May 8, 2026
عباس عراقچی نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی ایران کے میزائل ذخائر سے متعلق رپورٹ کو بھی مسترد کردیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ہمارے میزائل کے ذخائر اور لانچرز کی صلاحیت 31 مارچ کے مقابلے میں 75 فیصد نہیں بلکہ 120 فیصد ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ شب امریکی افواج نے ایران میں فوجی اڈوں پر بمباری کی اور آبنائے ہرمز میں بھی دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل