Saturday, May 09, 2026
 

اے ٹی ایم کی خرابی اور صارف کو ذہنی اذیت پہنچانے کے کیس میں نجی بینک پر 15 ہزار روپے جرمانہ

 



کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے اے ٹی ایم کی خرابی اور صارف کو ذہنی اذیت پہنچانے کے کیس میں نجی بینک پر 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کردیا۔ درخواست گزار فراز فہیم ایڈووکیٹ کے مطابق 2019 میں رقم نکالنے کی کوشش کے دوران اے ٹی ایم نے رقم جاری نہیں کی جبکہ اسی دوران مشین نے اس کا کارڈ بھی ضبط کرلیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ رقم اور کارڈ نہ ملنے کے باعث اسے شدید شرمندگی، ذہنی اذیت اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ نکلوائی گئی رقم اور سروس چارجز صارف کو واپس کردیئے گئے ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ابتدائی طور پر سروس کے حصول کے لیے رقم کی کٹوتی اور مشین کی خرابی کے باعث کارڈ کی ضبطگی سروس میں کمی کے زمرے میں آتا ہے۔ نجی بینک نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ شکایت بینکاری قوانین اور پیمنٹ سسٹم اینڈ الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر ایکٹ 2007 کے تحت آتی ہے اور کنزیومر کورٹ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ رقم کی واپسی کے باوجود مالی نقصان ثابت نہیں ہوتا تاہم ذہنی اذیت، پیشہ ورانہ خلل اور وقت کے ضیاع کی تلافی ضروری ہے۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے نجی بینک کو درخواست گزار کو 15 ہزار روپے بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل