Tuesday, May 12, 2026
 

پاکستان ریلویز میں اعلیٰ عہدوں پر افسران کی تعیناتی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا

 



پاکستان ریلویز میں اعلیٰ عہدوں پر افسران کی تعیناتی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا، کئی اہم عہدوں پر افسران کو اضافی چارج دے کر کام لیا جا رہا ہے جبکہ گریڈ 19 میں ترقی کے لیے تین برسوں سے ڈی پی سی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے گریڈ 18 کے افسران اون پے اسکیل پر تعینات کر کے کام چلایا جا رہا ہے۔ ایکسپریس نیوز کو پاکستان ریلویز ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق پاکستان ریلویز میں گریڈ  19، گریڈ 20 اور 21 کی بعض اہم  ترین سیٹیں خالی پڑی ہیں۔ ان اہم سیٹوں پر افسران کی تعیناتی نہ ہونے سے دفتری امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جزل مینیجر ریلوے ویلفیئر گریڈ 21 کی سیٹ کئی روز سے خالی پڑی ہے، یہ سیٹ محمد حفیظ اللہ کے سی ای او پاکستان ریلوے تعیناتی کے بعد خالی ہوئی جبکہ کسی اور ریلوے آفیسر کو جنرل مینیجر ریلوے ویلفیئر تعینات نہیں کیا گیا۔ اسی طرح، جنزل مینیجر ریلوے ایم اینڈ ایس کی سیٹ پر کسی ریلوے افسر کو ریگولر چارج نہیں دیا گیا اور سیکرٹری ریلوے بورڈ کو جنرل منیجر ریلوے ایم اینڈ ایس کا اضافی چارج دے کر کام چلایا جا رہا ہے۔  ڈی جی ویجیلنس سیل ریلوے گریڈ 20 کی سیٹ بھی خالی پڑی ہے۔ سابق ڈی آئی جی ریلویز پولیس عبدالرب چوہدری کو ڈی جی ویجیلینس سیل کا چارج دیا گیا تھا، ان کے تبادلے کے بعد یہ سیٹ بھی تاحال خالی پڑی ہے۔ گریڈ 20 کی پراجیکٹ ڈائریکٹر 230 کوچز کی سیٹ بھی خالی پڑی ہے جبکہ ایم ڈی پے اے ای ایم ایس کی سیٹ خالی پڑی ہے۔ یہ تینوں سیٹیں گریڈ 20 کی ہیں۔ پاکستان ریلویز میں گریڈ 19 کی کئی خالی سیٹوں پر گریڈ 18 کے افسروں کو اون پے اسکیل پر تعینات کر کے کام چلایا جا رہا ہے۔ گزشتہ 3 سال سے گریڈ 19 کے لیے ڈی پی سی نہ ہونے سے ریلوے کے بعض افسر ابھی تک گریڈ 18 میں کام کر رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل