Tuesday, May 12, 2026
 

ایک نامور شاعر

 



معدنیات کی دولت سے مالا مال رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ بلوچستان بہادر و غیور لوگوں کی سرزمین مگر پس ماندگی و سنگین ترین مسائل سے دوچار سرداری نظام کے باعث تعلیم سے محروم لوگ۔ چنانچہ ہم ذکر کریں گے اسی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ادیب، شاعر، مترجم و سیاست دان میر گل خان کا جن کا قلمی نام ہے میر گل خان نصیر۔ انھوں نے 14 مئی 1914 کو نوشکی، ضلع چاغی میں جنم لیا تھا۔ 16 برس کی عمر میں کوئٹہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ مزید حصول تعلیم کے لیے لاہور آئے اور اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا ،البتہ سال اول کا امتحان پاس کر لیا مگر شدید خواہش کے باوجود مزید تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ پائے، وجہ صحت کی خرابی تھی۔ اسی باعث وہ کوئٹہ واپس آ گئے۔ یہاں رہ کر میر گل خان نصیر نے پنجاب کی تہذیب و ثقافت، سیاست و سماجی ماحول کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جو کچھ انھوں نے پنجاب میں مشاہدہ کیا، اس کو سامنے رکھ کر انھوں نے بلوچستان کے مسائل و حالات کا جائزہ لینا شروع کیا۔ اس تقابلی جائزے کے بعد نوجوان میر گل خان نصیر نے جان لیا کہ بلوچستان میں افلاس اور جہالت کی وجوہات کیا ہیں۔ عوام معاشی مسائل سے دوچار کیوں ہیں ؟ تب انھوں نے عملی سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ بروقت اور درست تھا کیونکہ کسی بھی سماج کو اگر کوئی تبدیل کر سکتا ہے تو وہ ہے سماجی ارتقائی عناصر کو متحرک کرنا، اس کے لیے نوجوان نسل کو سمجھانا ضروری ہے کیونکہ نوجوانوں کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجزن ہوتا ہے ، نوجوانوں کی ٹھیک سے رہنمائی کی جائے اور نوجوان اپنی منزل کا تعین کرکے جدوجہد کریں تو سماجی و سیاسی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ میرگل خان نصیر نے سیاسی و سماجی زندگی کا آغاز انجمن اتحاد بلوچستان اور لوکل مسلم ایسوسی ایشن میں شمولیت سے کیا۔ اس دوران بہت سے سیاسی نشیب و فراز آئے، 1970 میں ملک میں اولین عام انتخابات ہوئے، یہ قیام پاکستان کے 23 برس بعد عام انتخابات ہوئے تھے۔ ان انتخابات میں لوگوں کا جوش و جذبہ قابل دید تھا کیونکہ یہ انتخابات ایوب خان و یحییٰ خان کی قائم کردہ طویل آمریت کے بعد منعقد ہو رہے تھے۔ چنانچہ میر گل خان نصیر نے ان انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار کے طور پر چاغی سے صوبائی اسمبلی کے لیے انتخاب لڑا اور کامیاب قرار پائے اور بلوچستان کابینہ میں سینئر وزیر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ البتہ عطا اللہ مینگل صاحب کی حکومت بلوچستان میں ختم کر دی گئی اور پوری کابینہ کو جیل میں ڈال دیا گیا تو اسیران میں میر گل خان نصیر بھی شامل تھے بعدازاں جب پاکستان نیشنل پارٹی کا قیام عمل میں آیا تو میر صاحب اس پارٹی کے صوبائی صدر قرار پائے۔ البتہ جب انھوں نے سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی تو پھر وہ پوری توجہ کے ساتھ ادب کی جانب راغب ہو گئے۔ ترقی پسند نظریات سے زمانہ طالب علمی سے متاثر تھے گویا اس وقت ان کو سماجی عدم مساوات ،سرداری و وڈیرہ شاہی نظام کے باعث عام آدمی پر اس نظام کی آڑ میں جو ظلم و جبر ہو رہا تھا اور جس طرح عام آدمی کا استحصال ہو رہا تھا، ان تمام حالات میں ان کے نزدیک خاموشی ایک جرم تھی۔ چنانچہ 1979 میں ان کی اولین کتاب بلوچی رزمیہ شاعری پر تھی، اسی برس ان کی کتاب جو بلوچی عشقیہ شاعری بھی شائع ہوئی۔ یہ کتاب انھوں نے حیدر آباد جیل میں تخلیق کی تھی جب کہ 1980 میں فیض احمد فیض کے شعری مجموعہ سروادی سینا کا بلوچی زبان میں منظوم ترجمہ منظر عام پر آیا۔ 1981 میں براہوی منظوم تاریخی کتاب مشہد نا جنگ نامہ چھپی۔ 1982 میں ان کی ایک خوب صورت تاریخی کتاب بلوچستان قدیم اور جدید تاریخ کی روشنی میں۔ البتہ 1983 میں ان کی کتاب گشت شاہ لطیف گشت منظر عام پر آئی اس کتاب میں انھوں نے صوفی شاعر شاہ لطیف کے کلام کے کچھ حصوں کا ترجمہ کیا تھا۔ البتہ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین بلوچستان اور عوامی ادبی انجمن پاکستان کے قائم کرنے والوں میں شریک رہے تھے۔ البتہ 6 دسمبر 1983 کو ایک خوبصورت انسان ایک ادیب ایک شاعر ایک نظریاتی سیاستدان میرگل خان نصیر اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کا انتقال کراچی میں ہوا مگر ان کی وفات کے بعد بھی ان کی کتب کے چھپنے کا سلسلہ جاری رہا۔ 1984 میں ان کی کتاب تاریخ خواتین قلات، 1988 میں ھون عہ ھیگل، 1990 میں شنلاک، 1996 میں پرنگ آنے والی کتب تھیں جب کہ بدنام زمانہ شخص جنرل ڈائر کی کتاب ریڈرز آف فرنٹیر کا بھی اردو ترجمہ انھوں نے کیا جب کہ ان کی بہت ساری تحریریں اشاعت کی منتظر ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ان کا تخلیق کردہ ادب بھی شائع کیا جائے تاکہ لوگ ان کے کلام سے فیض یاب ہو سکیں۔ بہرکیف 14 مئی 2026 کو ان کا 112 واں یوم ولادت ہے، ہم ان کے مداحوں کو اس موقع پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ آخر میں حکام بالا سے اتنا ضرور عرض کریں گے کہ بلوچستان کے مسائل آپ کی توجہ کے طلبگار ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل