Loading
پولیس کے ہاتھوں منشیات فروشی کے الزام میں انتہائی مطلوب ملزمہ کی گرفتاری کے معاملے پر کراچی پولیس چیف کے حکم پر بنائی گئی خصوصی ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
تحقیقاتی ٹیم معطل کیے گئے ایس ایچ او، ایس آئی اور پولیس پارٹی کے بیانات لے گی جبکہ یہ جاننے کی کوشش کرے گی کی ملزمہ کو خلاف ضوابط عدالت میں کیوں پیش کیا گیا۔
ملزمہ کو ہتھکڑی لگا کر اور چہرہ ڈھانپ کر کیوں نہ عدالت لے جایا گیا؟ اس حوالے سے تحقیقات ہوں گی۔
تحقیقاتی ٹیم نے گارڈن پولیس اسٹیشن میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی ریکارڈنگ بھی دیکھنے کا فیصلہ کر لیا۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ کو پولیس اسٹیشن میں کس انداز میں اور کہاں رکھا گیا؟ جانچ ہوگی۔ ملزمہ کا تھانے کے اندر افسران و اہلکاروں کے ساتھ رویہ کیسا تھا؟ رپورٹ کا حصہ بنایا جائے گا، گارڈن پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کیوں کی؟ کھوج لگایا جائے گا۔
کراچی پولیس چیف نے معاملے پر ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی کی سربراہی میں گزشتہ روز خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔
دوسری جانب، ملزمہ انعم عرف پنکی کی عدالت میں پیشی کے دوران ضوابط کی خلاف ورزی کے معاملے پر ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی سے انکوائری واپس لے لی گئی۔
ڈی آئی جی ویسٹ عرفان علی بلوچ نئے انکوائری آفیسر مقرر کیے گئے ہیں۔ انکوائری میں ملزمہ کی غلط طریقے سے پیشی پر پولیس اہلکاروں کی غفلت کا تعین کیا جائے گا۔
انکوائری آفیسر کو 3 روز کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی سخت ہدایت کر دی گئی۔ ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے نامزدگی کا باقاعدہ حکم نامہ جاری کر دیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل