Loading
ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر طہ احمد خان نے منشیات فروش پنکی کی گرفتاری اور اس سے متعلق انکشافات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
طہ احمد خان نے کہا کہ نکی کو مبینہ طور پر پروٹوکول ملنا انتہائی تشویشناک ہے ۔ عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ سندھ میں قانون کی عملداری کہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں قانون کمزور جبکہ منشیات مافیا مضبوط کیوں ہے؟۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت صرف سوشل میڈیا کے دباؤ پر حرکت میں آتی ہے ۔ عوامی دباؤ کے بعد کارروائیاں حکومت کی ناکام گورننس کا ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات فروشوں کو سہولت جبکہ عوام کو عدم تحفظ کیوں فراہم کیا جا رہا ہے۔
طہ احمد خان نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، صرف بااثر ملزمان کے لیے نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صرف معطلیاں کافی نہیں بلکہ اصل سرپرستوں کو بھی سامنے لایا جائے۔
انہوں نے سندھ حکومت سے سوال کیا کہ پنکی کو خصوصی پروٹوکول کس کے حکم پر دیا گیا ؟۔ منشیات فروشوں کے سرپرست کب بے نقاب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں انصاف اور قانون کی ساکھ شدید متاثر ہو رہی ہے ۔ کراچی کے نوجوان منشیات مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔
طہ احمد خان نے مزید کہا کہ اگر قانون پر بروقت عمل ہوتا تو ایسے عناصر طاقتور نہ بنتے۔ انہوں نے کہا کہ شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں ۔ یہ حکومتی ناکامی ہے۔ کراچی کو منشیات مافیا کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل