Thursday, May 14, 2026
 

پاکستان نے امن مذاکرات کیلیے ایران کی تجاویز امریکا کے حوالے کردیں

 



 ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایرانی ثجاویز امریکہ کے ساتھ شیئر کردی ہیں۔ ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے گزشتہ ہفتے متعدد عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے اور آذربائیجان کے صدر کو مبارکباد پیش کی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران۔امریکہ تنازع کے حل کے لیے خطے اور خطے سے باہر اہم سفارتی رابطے کیے، جن میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، آسٹریا کے وزیر خارجہ اور چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے گفتگو شامل ہے۔ ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار اور وانگ ژی کے درمیان تعمیری اور بامقصد بات چیت ہوئی جبکہ پاکستان اور چین کا کئی امور پر مشترکہ مؤقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ون چائنا پالیسی پر قائم ہے اور تائیوان کو چین کا ناقابل تنسیخ حصہ سمجھتا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق رپورٹ کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا بیان اسی رپورٹ کے فوری بعد سامنے آیا تاہم پاکستان کا مؤقف تمام حقائق کو واضح کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن عمل جاری ہے اور پاکستان اس عمل میں مصروف اور پرامید ہے۔ ترجمان کے مطابق ایران سے موصول ہونے والی تجاویز فوری طور پر متعلقہ فریق تک پہنچا دی گئی تھیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے بنوں کے علاقے فتح خیل پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر افغان ناظم الامور کو طلب کرکے ڈی مارش دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاعی تعلقات کسی ایک دورے یا ایک ملک سے وابستہ نہیں بلکہ یہ ادارہ جاتی اور مستقل فریم ورک کے تحت آگے بڑھتے ہیں۔ قطر، ترکیہ، خلیجی اور دیگر برادر ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون مضبوط اور دیرینہ نوعیت کا ہے۔ متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ اس حوالے سے اعداد و شمار مبالغہ آمیز ہیں اور وزارت داخلہ پہلے ہی اپنا مؤقف واضح کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات دیرینہ اور برادرانہ ہیں جبکہ بڑی تعداد میں پاکستانی وہاں مقیم ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ صومالی قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہری تاحال محفوظ ہیں اور انہیں خوراک فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق قزاق حکومت پاکستان کے بجائے مغویوں کے جہاز کے مالکان سے رابطے میں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کے ممکنہ دورۂ چین اور دورۂ روس سے متعلق حتمی تاریخوں اور ایجنڈے کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔ روس سے تیل درآمد سے متعلق بیان کو خواہش اور نیت کا اظہار قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عملی پیش رفت کے لیے وزارت پیٹرولیم اور وزارت توانائی سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل