Friday, May 15, 2026
 

وزارت ہاؤسنگ کے 1083 مکانات پر سی ڈی اے افسران کا قبضہ، معاملہ پی اے سی پہنچ گیا

 



کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے اسٹیٹ آفس کے 1083 پرائم لوکیشن کی سرکاری رہائشوں پر خلاف ضابطہ قبضہ اور الاٹمنٹ سے اب تک سی ڈی اے کی جانب سے 5 فیصد نارمل رینٹ بھی فیڈرل ٹریژری میں جمع نہ کروائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارت ہاؤسنگ نے معاملہ چیئرمین سی ڈی اے کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سیکرٹری ہاوسنگ کو معاملہ فوری طور پر حل کرنے کی سفارش بھی کر دی۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق آڈٹ حکام نے اعتراض کیا کہ اسٹیٹ آفس نے فارن آفس اور حساس ادارے کے علاوہ تمام پول ختم کر دیے اور رہائشوں کی تعداد کو بھی پابند کر دیا گیا کہ مزید نہیں بڑھایا جائے گا۔ اکاموڈیشن ایلوکیشن رولز 2002 کی شق چار (1&2) کے تحت ایسے ادارے جو اپنی کالونی کی تعمیر کے حوالے سے فنڈز دے رہے ہوں ان سے سرکاری رہائشیں واپس لی جائیں اس کے علاوہ تمام پول کو ختم کر دیا گیا، تاہم سی ڈی اے افسران نے رہائشیں خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائشیں خالی نہ کرنے میں اسٹیٹ آفس کے عناصر ملوث رہے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں سرکاری ملازمین پرائیویٹ رہائشوں میں خوار ہوتے رہے ہیں، اسٹیٹ آفس کے افسران کی ملی بھگت سے یہ گھر خالی نہ کروائے جا سکے ہیں. ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے افسران نے بہترین لوکیشن کی رہائشوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور اسٹیٹ آفس یہ رہائشیں خالی کروانے میں ناکام ہے حالانکہ اسٹیٹ آفس رولز 24 کے تحت کسی بھی وقت الاٹمنٹ منسوخ کر کے قبضہ واپس لے جا سکتی ہے. ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ سی ڈے اے کے قبضے میں موجود مکانوں کے اوریجنل الاٹی ریٹائرڈ ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افسران نے سی ڈی اے سے الاٹمنٹ اپنے بچوں کے نام ٹرانسفر کروا لی ہے جبکہ افسران سے رینٹ کی مد میں حاصل پانچ فیصد رینٹ بھی سی ڈی اے خود ہی استعمال کر رہا ہے، قانون کے تحت یہ پانچ فیصد رینٹ ایف ٹی او آفس میں جمع کروایا جانا چاہیے تھا۔ دستیاب دستاویز کے مطابق 29 اپریل کو ڈی اے سی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ جوائنٹ سیکرٹری (اسٹیٹ) اور ڈائریکٹر جنرل اسٹیٹ آفس پر مشتمل کمیٹی اس معاملے کو چیئرمین سی ڈی اے سمیت متعلقہ حکام کے سامنے اٹھائے گی اور جلد از جلد پول سے 1083 مکانات واپس لے کر جنرل ویٹنگ لسٹ میں موجود ملازمین کو الاٹ کیے جائیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل