Friday, May 15, 2026
 

کوکین ڈیلر پنکی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ منظرعام پر آگئی، ہوشربا انکشافات

 



بین الصوبائی منشیات فروش اور کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ بھی منظرعام پر آ گئی۔ انمول پنکی کے مطابق رانا ناصر اور رانا اکرم اس کے سابق شوہر تھے اور دونوں پولیس افسر رہ چکے ہیں۔ انمول پنکی نے بتایا کہ اس نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ گرلز اسکول سہراب گوٹھ کراچی سے حاصل کی اور ماڈلنگ و اداکاری کے شوق میں 2006 میں لاہور منتقل ہوئی۔ اس کے مطابق مینارِ پاکستان پر عاشی نامی لڑکی سے ملاقات ہوئی، بعد میں اسی کے ساتھ رہنے لگی اور ماڈلنگ و اداکاری کے لیے فلم ڈائریکٹرز کے دفاتر جاتی رہی۔ پنکی کے مطابق سابق پولیس افسر رانا ناصر سے ملاقات بھی فلم ڈائریکٹر کے دفتر میں ہوئی۔ اس نے بتایا کہ رانا ناصر کے ذریعے ہی گروپ ممبران بوبی اور کرن سے ملاقات ہوئی، جبکہ بوبی کے کہنے پر رانا ناصر سے طلاق لی اور علیحدگی کے بعد منشیات فروشی کا اپنا کام شروع کیا۔ انمول پنکی کے مطابق کرن نامی خاتون نے ایک سیاہ فام افریقی باشندے سے شادی کر رکھی ہے، جبکہ اس کا شوہر خالص کوکین پاکستان اسمگل کرتا تھا۔ پنکی نے اعتراف کیا کہ وہ 2024 میں سی آئی اے لاہور کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوئی تھی۔ پنکی کے مطابق رانا ناصر کے لیے کام کے دوران منشیات بریف کیس میں رکھ کر کراچی کے اقبال عرف بالا کو پہنچاتی تھی۔ اس نے بتایا کہ رانا ناصر کا نیٹ ورک راولپنڈی، لاہور اور کراچی تک پھیلا ہوا تھا اور اس نے مجھے کراچی کا انچارج بنایا تھا۔ انمول پنکی نے بتایا کہ رانا ناصر سے علیحدگی کے بعد منشیات کی سپلائی کے لیے ایک خاتون کو ملازم رکھا، جبکہ لاہور کی انعم عرف انا بھی خالص کوکین سپلائی کرتی ہے۔ اس کے مطابق وہ کیٹامائن، میتھ، لائڈوکین اور ایپی سیڈ نامی کیمیکلز خالص کوکین میں ملاتی تھی۔ پنکی کے مطابق عاقب، اعزاز اور حمزہ نامی رائڈرز اب بھی کام کر رہے ہیں۔ دوسری جانب لاہور میں سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ انمول عرف پنکی کیس کی فوری جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ سول سوسائٹی کے مطابق منشیات معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ انمول عرف پنکی کا مقدمہ پہلا کیس نہیں، ماضی میں بھی متعدد مقدمات سامنے آئے مگر مؤثر نتائج برآمد نہ ہو سکے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل