Saturday, May 16, 2026
 

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، سپریم کورٹ

 



سپریم کورٹ نے لاہور میں دو پولیس افسران اور ایک کانسٹیبل کو قتل کرنے والے مجرم مشتاق احمد کی نظرثانی درخواست خارج کر دی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت کے مطابق سرکاری اہلکاروں پر حملہ ریاست کی رٹ اور نظامِ انصاف پر براہ راست حملہ ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا نجی دشمنی نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ عدالت نے کہا کہ نظرثانی کی درخواست 1598 دن کی غیر معمولی تاخیر سے دائر کی گئی اور درخواست گزار تاخیر کے ایک ایک دن کا معقول جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔ سپریم کورٹ کے مطابق مجرم مشتاق احمد پر دورانِ ڈیوٹی دو پولیس افسران اور ایک کانسٹیبل کو قتل کرنے کا جرم ثابت ہے۔ مجرم نے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو تین بار سزائے موت سنائی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے اپنے پہلے فیصلے میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل