Loading
وقت وقت کی بات ہے…1972میں جب Richard Nixon اور Henry Kissinger نے چین کے ساتھ پاکستان کے توسط سے سفارتی تعلقات کا آغاز کیا تو چین آہنی پردے کے پیچھے دنیا سے الگ تھلگ ملک تھا، کمیونیزم کے تجربات کے باوجود معاشی ترقی میں امریکا اور روس سے بہت پیچھے۔
نصف صدی بعد امریکی صدر ٹرمپ بیجنگ پہنچے تو اس بار منظر بالکل مختلف تھا۔ اب چین کوئی تنہا، کمزور یا عالمی نظام سے کٹا ہوا ملک نہیں بلکہ دنیا کی دوسری بڑی معیشت، سب سے بڑی صنعتی طاقت اور امریکا کا سب سے بڑا معاشی پارٹنر ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جس چین کو امریکا نے عالمی معیشت میں جگہ دلائی، اپنے ملک کی مارکیٹ فراخ دلانہ رسائی دی، آج وہی چین واشنگٹن کے لیے سب سے بڑا اسٹریٹیجک چیلنج بھی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ دورہ چین اس بدلتی عالمی سیاست اور معاشی قوت کی علامت تھا۔ سرخ قالین، فوجی بینڈ، سفارتی مسکراہٹیں اور خوشگوار جملے اپنی جگہ، مگر اس پوری ملاقات پر ایران جنگ، آبنائے ہرمز، ٹیکنالوجی کی سرد جنگ اور عالمی طاقت کی کشمکش کا سایہ نمایاں رہا۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول نے عالمی معیشت کو جکڑ رکھا ہے کیونکہ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
امریکا نے جواب میں آبنائے ہرمز کو بلاک کرکے معاملہ مزید الجھا دیا۔ ایران پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تاہم امریکا اب اس کمبل سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ کبھی یہ طعنہ کہ امریکا کا کیا جاتا ہے، آبنائے ہرمز وہ کھلوائیں جن کا تیل یہاں سے گزرتا ہے یعنی یورپ اور چین۔ اس دورے سے قبل اور دوران بھی صدر ٹرمپ نے چین سے کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں کردار ادا کرے کیونکہ سب سے زیادہ فائدہ خود چین اٹھاتا ہے۔
بیجنگ میں ہونے والی ٹرمپ شی جن پنگ ملاقات بظاہر سفارتی شکوہ وشان اور پروٹوکول کی چمک سے لبریز رہی، مگر اختتام پر یہ حقیقت زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی کہ دنیا کی دونوں بڑی طاقتیں بنیادی تنازعات پر بدستور فاصلے پر کھڑی ہیں۔
ملاقاتیں ہوئیں، وعدے سنائے گئے، اشارے دیے گئے مگر کسی بھی بڑے اسٹریٹجک مسئلے پر حتمی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کی کمیونسٹ پارٹی کے انتہائی حساس انتظامی کمپاؤنڈ میں ہوئی، جہاں اصل طاقت کا اظہار عام سفارتی تقریب سے کہیں زیادہ محتاط اور کنٹرولڈ ہوتا ہے۔ ان ملاقاتوں میں تین بڑے سوالات مذاکرات کا محور رہے: ایران، تائیوان اور تجارت۔
ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی کوشش تھی کہ چین اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تہران پر دباؤ ڈالے تاکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے اور عالمی توانائی کی رسد معمول پر آئے۔
ٹرمپ نے بعد میں یہ تاثر دیا کہ شی جن پنگ نے نہ صرف تعاون کی یقین دہانی کرائی بلکہ ایران کو عسکری سپورٹ نہ دینے کا اشارہ بھی دیا۔ مگر بیجنگ کی سرکاری وضاحت میں نہ ایران کا واضح ذکر تھا اور نہ کسی ایسے وعدے کی تصدیق۔
یہ خاموشی ایک اہم حکمت عملی پر مبنی ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت ایران چین کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔ بیجنگ توانائی، بیلٹ اینڈ روڈ اور خلیجی اثرورسوخ کے تناظر میں ایران نظرانداز نہیں کر سکتا، نتیجتاً ایران پر دونوں ممالک کا اتفاق کم اور اپنا اپنا اسٹریٹجک مفاد غالب رہا۔
تائیوان اس ملاقات کا سب سے حساس اور خطرناک نکتہ رہا۔ شی جن پنگ نے واضح اور سخت انداز میں خبردار کیا کہ اگر اس مسئلے کو ’’غلط طریقے سے‘‘ ہینڈل کیا گیا تو دونوں ممالک کے درمیان ’’ٹکراؤ اور حتیٰ کہ تصادم‘‘ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ جملہ محض سفارتی تنبیہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک لائن تھی جسے بیجنگ اپنی سرخ لکیر سمجھتا ہے۔
دوسری طرف صدر ٹرمپ نے Air Force One پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے تائیوان پر کوئی حتمی کمٹمنٹ نہیں دی اور امریکی اسلحہ فروخت کے مستقبل کے فیصلے ابھی زیر غور ہیں۔
معاشی محاذ پر نسبتاً زیادہ پیش رفت کے اشارے سامنے آئے، مگر وہ بھی غیرمصدقہ اور یکطرفہ دعوؤں تک محدود رہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ چین نے بوئنگ کے 200 طیارے خریدنے پر اتفاق کیا ہے اور امریکی زرعی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر خریداری کا وعدہ کیا گیا ہے۔ مگر بیجنگ کی جانب سے نہ ان معاہدوں کی تصدیق کی گئی اور نہ ہی کوئی باضابطہ اعلان سامنے آیا۔
یہ تضاد اس summit کی مجموعی تصویر کو واضح کرتا ہے: اعلان زیادہ، تصدیق کم۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے سب سے بڑے معاشی شراکت دار بھی ہیں اور سب سے بڑے اسٹریٹجک حریف بھی۔ تقریباً چھ سو ارب ڈالر سالانہ کی دوطرفہ تجارت اس تعلق کو جوڑے ہوئے ہے مگر ساتھ ہی ٹیرف، ٹیکنالوجی پابندیاں اور صنعتی تحفظات اس تعلق کو مسلسل دباؤ میں بھی رکھتے ہیں۔ امریکا چین پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے مگر عالمی سپلائی چین کی حقیقت اسے مکمل علیحدگی کی اجازت نہیں دیتی۔
ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں چین پر 25 فیصد تک بھاری ٹیرف عائد کیے تھے۔ بعد میں الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، سولر آلات اور سیمی کنڈکٹرز پر مزید سخت ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔ بعض شعبوں میں محصولات سو فیصد تک پہنچ گئے۔ مقصد یہ تھا کہ چین کی صنعتی پیش قدمی روکی جائے اور امریکی مینوفیکچرنگ دوبارہ کھڑی ہو سکے۔
تاہم امریکا آج بھی چینی سپلائی چین سے پوری طرح آزاد نہیں ہو سکا۔ امریکی مارکیٹ میں موجود ہزاروں مصنوعات، الیکٹرونکس، ادویات کا خام مال، نایاب معدنیات، بیٹریاں اور صنعتی پرزے چین سے جڑے ہوئے ہیں۔ کرونا وبا کے بعد ’’ڈی کپلنگ‘‘ اور ’’فرینڈ شورنگ‘‘ جیسے نعرے ضرور لگے مگر عملی طور پر چین کو بطور ’’دنیا کی فیکٹری‘‘ الگ کرنا اتنا آسان نہیں۔ امریکی کمپنیاں چین چھوڑنا چاہتی بھی ہیں تو متبادل اتنا سستا، وسیع اور منظم کہیں اور دستیاب نہیں۔
یوں دو بڑی طاقتوں کے سربراہان کی یہ ہائی پروفائل ملاقات نہ کسی نئے دور کا آغاز بنی، نہ کسی پرانے تنازعے کا اختتام، بلکہ یہ ایک ’’کنٹرولڈ تعلق‘‘ کی توثیق اور تسلسل ثابت ہوئی جہاں دونوں فریق تصادم سے بچنا چاہتے ہیں مگر ایک دوسرے پر اعتماد قائم کرنے پر تیار نہیں۔
ان ملاقاتوں سے یہ اندازہ ہو گیا کہ کیا طے ہوا، بلکہ یہ کہ کیا طے نہیں ہو سکا: ایران پر ابہام برقرار رہا، تائیوان پر خطرناک تناؤ قائم رہا، اور تجارت پر حوصلہ افزاء اشارے ملے مگر پائیدار معاہدہ سامنے نہ آ سکا۔
یوں یہ ملاقات عالمی تناظر اور ورلڈ آرڈر میں ایک نئی بنیاد رکھنے کی کوشش کی بجائے اپنی اپنی سفارتی پوزیشنوں کو مزید اجاگر کرنے پر منتج ہوئی۔ دنیا کو واضح پیغام گیا کہ امریکا اپنی جگہ سپر پاور سہی لیکن چین کے بغیر بھی کار ہائے دنیا آسانی سے چلنے والے نہیں، عالم میں طاقت کی ادل بدل کا یہ عمل یونہی جاری رہے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل