Sunday, May 17, 2026
 

صوبوں میں حالات خراب ہیں، ریاست کو امن کیلئے مربوط حل نکالنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان

 



جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں اس بد امنی ہے اور سندھ سمیت تمام صوبوں میں حالات خراب ہیں، ریاست کو امن کے لیے مربوط اور قابل اعتماد پالیسی کے مطابق حل نکالنا ہوگا اور اقلیتوں سمیت سب کو حقوق دینے ہوں گے۔ کراچی میں جمعیت علمائے اسلام منارٹی ونگ سندھ کے تحت پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم سب مذاہب اور قومیتوں کے لوگ جمع ہیں، ہمارا دین انسانیت اور امن کا پیغام دیتا ہے، جمعیت علمائے اسلام سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے، جمعیت علمائے اسلام نے منارٹی ونگ بنایا ہے، ہم اقلیتوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کے دور میں حکومت تعلیمی اداروں کو سرکاری تحویل میں لے رہی تھی کہ اس وقت سرحد میں میرے والد وزیراعلی تھے، انہوں نے منع کیا کہ کوئی منارٹی تعلیمی ادارہ اقلیتوں کی مرضی کے بغیر سرکاری تحویل میں نہیں لیا جائے گا، ہم اپنے اکابرین کی دی گئی تربیت کے مطابق اقلیتوں کے حقوق اور تحفظ کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن انسانی حقوق کے تحفظ کی علامت ہے، اگر جان و مال، عزت وآبرو اور مال محفوظ ہے  تو امن ہوگا، ریاست اگر امن قائم کرے گی تو عوام محفوظ ہوں گے، اس وقت سندھ سمیت تمام صوبوں میں بد امنی ہے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حالات بہت خراب ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں، ہم حالات کی بہتری چاہتے ہیں، ریاست کو امن کے لیے مربوط اور قابل اعتماد پالیسی کے مطابق حل نکالنا ہوگا،  اقلیتوں سمیت سب کو حقوق دینے ہوں گے، ہم سب کو مل کر ملک کے حالات کی بہتری اور معشیت کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے راشد محمود سومرو، قاری محمد عثمان، اسلم غوری، راوی کمار کھتری، اکشے کمار، مولانا سمیع سواتی اور دیگر موجود تھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل