Loading
خیبرپختونخوا کے علاقے بنوں پولیس چوکی فتح خیل پر ہونے والے حملے کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جبکہ مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
بنوں پولیس کے مطابق حملے کے بعد شروع کی گئی تفتیش اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
ریجنل پولیس آفیسر بنوں کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق خودکش حملے کے بعد پولیس کی جوابی فائرنگ میں 12 حملہ آور مارے گئے تھے، تاہم ان کے ساتھی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے، گزشتہ روز ہونے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مزید 5 دہشت گرد مارے گئے، جن میں خودکش رکشہ تیار کرنے والا مبینہ دہشت گرد حیات اللہ خان گل اور مولانا صدام سکنہ سام توئی، تحصیل شگئی جنوبی وزیرستان بھی شامل ہیں۔
تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ حملے کے آغاز میں دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا، تاہم چوکی پر موجود پولیس اہلکاروں نے زخمی ہونے کے باوجود فوری جوابی کارروائی کی اور حملہ آوروں کا مقابلہ جاری رکھا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران متعدد حملہ آوروں کی ہلاکت کی اطلاعات تھیں، جن کی اب مختلف ذرائع سے تصدیق ہو رہی ہے۔
پولیس حکام نے بتایا کہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل فیروز خان، کانسٹیبل حیات اللہ اور کانسٹیبل فدا اللہ نے زخمی ہونے کے باوجود مزاحمت جاری رکھی اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی میں حصہ لیتے رہے۔
تفتیشی اداروں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے 12 دہشت گردوں میں سے 4 کی لاشیں جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی جبکہ 2 کو بنوں کی سب ڈویژن وزیر خنیہ خیل میں دفن کیے جانے کی اطلاعات ملی ہیں تاہم انٹیلی جنس ادارے، سی ٹی ڈی اور دیگر ادارے مزید حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ گزشتہ کارروائی میں مارا جانے والا حیات اللہ مبینہ طور پر خودکش گاڑی کی تیاری میں ملوث تھا اور حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ زرگل عرف “انکل” کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا۔
ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے زخمی اہلکاروں کی کارکردگی اور قربانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بنوں پولیس دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر کردار ادا کر رہی ہے۔
ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان نے کہا کہ امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل