Sunday, May 17, 2026
 

کراچی: دسویں جماعت کے نتائج ای مارکنگ کے بغیر جاری کرنے کا فیصلہ

 



میٹرک بورڈ کراچی کی سابقہ انتظامیہ کی بدانتظامیوں کے باعث دسویں جماعت کی ای مارکنگ نہیں ہوپائے گی، دسویں کے پونے دو لاکھ طلبہ کے نتائج ای مارکنگ کے بغیر ہی جاری کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دسویں جماعت کی ای مارکنگ کے لیے چھپوائی گئی مخصوص امتحانی کاپیاں مینوول اسسمنٹ کے لیے اساتذہ کے حوالے کی جارہی ہیں، سابق چیئرمین ای مارکنگ کے لیے کوئی تیاری کیے بغیر ہی بورڈ سے رخصت ہوگئے، ای مارکنگ نہ ہونے سے امتحانی کاپیوں کی مد میں خرچ کیے گئے تقریبا ڈھائی کروڑ روپے ضائع ہوجائیں گے۔ میٹرک میں صرف دو مضامین کمپیوٹر سائنس اور ریاضی کی امتحانی کاپیوں کی ای مارکنگ کی جانی تھی، دسویں جماعت کے طلبہ نے کمپیوٹر سائنس اور ریاضی کے پرچے ان ہی کاپیوں پر حل کیے ہیں۔   ذرائع میٹرک بورڈ کے مطابق ای مارکنگ کا سوفٹ ویئر تاحال چلایا گیا نہ ہی اس کا تجربہ  ہوسکا ہے، سوفٹ ویئر کی خریداری پر 1 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ ہوئے، جن اساتذہ کو ای مارکنگ اسسمنٹ کرنی ہے ان کے لیے کسی قسم کا ٹریننگ سیشن تک نہیں کرایا گیا۔ اسسمنٹ کرنے والے اساتذہ یہ تک نہیں جانتے  کہ انہیں ای مارکنگ کا سافٹ ویئر کیسے استعمال کرنا ہے اساتذہ یہ بھی نہیں جانتے کہ سوالات کی اسسمنٹ کے لیے کون سے ای  ٹولز استعمال ہوں گے۔ کرپشن کے الزامات کی انکوائری رپورٹ سامنے کے بعد بھی حکومت ناظم امتحانات کو عہدے سے نہیں ہٹا سکی۔ کرپشن کے الزامات کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے پر میٹرک بورڈ کے سابق چیئرمین مستعفی ہوئے تھے۔ وزیر اعلی سندھ نے سابق چیئرمین میٹرک بورڈ کا استعفی منظور کیا تھا اور اسی رپورٹ میں ناظم امتحانات کو ہٹانے کی سفارش  کی گئی ہے۔  وزیر جامعات و بورڈز اس پوری رپورٹ کی منظوری دے چکے ہیں تاحال ناظم امتحانات کو فارغ کرنے کے حوالے سے کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں ہوسکا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل