Tuesday, May 19, 2026
 

اقوام متحدہ کا اسرائیل سے غزہ میں فلسطینیوں کی ’نسل کشی‘ روکنے کا مطالبہ

 



اقوام متحدہ نے اسرائیل سے غزہ میں ’نسل کشی جیسے اقدامات‘ روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں صورتحال انتہائی خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے جاری نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مئی 2025 تک غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں، جن میں بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ اسرائیل نے بعض حملوں کو یرغمالیوں کی بازیابی اور عسکری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے قرار دیا، تاہم بڑی تعداد میں اموات غیر قانونی تھیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ٹرک نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں نسل کشی جیسے اقدامات کو روکے، بے گھر فلسطینیوں کو اپنے گھروں میں واپسی کی اجازت دے اور فلسطینی علاقوں میں اپنی غیر قانونی موجودگی ختم کرے۔ رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کے حکام کے مطابق اسرائیلی فوج، پولیس اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران تقریباً 73 ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ حالیہ مہینوں میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے اور بمباری جاری رہی۔ رپورٹ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور دیگر گروپوں پر بھی تنقید کی گئی اور ان سے اندھا دھند راکٹ حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں جبکہ مغربی کنارے میں بھی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل