Tuesday, May 19, 2026
 

حکومت کا انشورنس سیکٹر میں کمپٹیشن اور سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ

 



حکومت کی جانب سے انشورنس سیکٹر میں مقابلے اور سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے قومی اسمبلی میں انشورنس بل مجریہ 2026 پیش کر دیا گیا ہے، بل میں انشورنس سیکٹر میں بڑی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں۔ انشورنس سیکٹر کو بیرونی سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر کھولنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ نیا قانون 25 سال پرانے انشورنس آرڈیننس کی جگہ لے گا۔ بل میں انشورنس کلیمز کی تیز ادائیگی اور تنازعات کے فوری حل کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ انشورنس بل میں کہا گیا ہے کہ غیر ملکی انشورنس اور ری انشورنس کمپنیوں کو برانچ اسٹرکچر کے ذریعے پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی جائے، سرکاری املاک کی انشورنس میں نجی شعبے کو شامل کیا جائے، نجی ری انشورنس کمپنیوں کو لازمی ری انشورنس میں مساویانہ مواقع دیے جائیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی پر مبنی ڈسٹری بیوشن ماڈلز، انشورٹیک مصنوعات کو قانونی حیثیت دی جائے۔ سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق انشورنس کمپنی کے لائسنس کی بار بار تجدید کے بجائے مستقل لائسنسنگ نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے اور انشورنس پالیسی ہولڈرز کے کلیمز نمٹانے کے لیے سخت ٹائم لائنز جاری کیے جائیں۔ ایس ای سی پی کے مطابق انشورنس پالیسی کی مس لیڈنگ فروخت کے خلاف مؤثر اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ انشورنس کمپنیوں کے لیے رسک بیسڈ کیپیٹل فریم ورک اور سالوینسی مینجمنٹ کا نظام متعارف ہوگا۔ ایس ای سی پی کے چیئرمین ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا ہے کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے مستحکم انشورنس سیکٹر اہم ہے۔ انشورنس کا نیا بل شہریوں، کاروبار، صنعت اور زراعت کو تحفظ فراہم کرے گا جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے کم لاگت اور تیز تر انشورنس فراہم کی جا سکے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل