Tuesday, May 19, 2026
 

کینیا میں پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر شدید احتجاج، 4 افراد ہلاک

 



کینیا میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مظاہروں کے باعث دارالحکومت ںیروبی سمیت مختلف شہروں میں ٹرانسپورٹ کا نظام شدید متاثر ہوا اور کئی سڑکیں بند رہیں۔ رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے بعد کینیا کی حکومت نے گزشتہ ہفتے ڈیزل سمیت مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا تھا۔ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 23.5 فیصد اضافہ کیا گیا، جس پر ٹرانسپورٹ ورکرز نے ہڑتال کی کال دی۔ مظاہرین نے مختلف شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں، ٹائروں کو آگ لگائی اور گاڑیوں کی آمدورفت روکنے کی کوشش کی۔ نجی منی بس سروس ’ماتاٹو‘ کے بند ہونے سے ہزاروں شہری سفری مشکلات کا شکار ہو گئے۔ کینیا کے وزیر داخلہ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ احتجاج کے دوران 4 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض ’شرپسند عناصر‘ نے احتجاج کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ حکام کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 348 افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ بعد ازاں بند سڑکیں کھول دی گئیں۔ احتجاج کے باعث تعلیمی ادارے بند رہے اور کئی تقریبات بھی منسوخ کر دی گئیں، جبکہ نیروبی کی مصروف سڑکوں پر معمول کے برعکس غیر معمولی خاموشی دیکھی گئی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل