Monday, May 18, 2026
 

اسرائیلی فوج میں ہلچل، 12 ہزار اہلکاروں کی کمی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

 



تل ابیب: اسرائیلی فوج کو افرادی قوت کے شدید بحران کا سامنا ہے، جبکہ مسلسل جنگی کارروائیوں اور متعدد محاذوں پر کشیدگی کے باعث فوجی نظام پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج کو اس وقت تقریباً 12 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث مختلف جنگی مشنز اور سیکیورٹی آپریشنز متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران تقریباً 5300 خواتین کو اسرائیلی فوج میں شامل کیا گیا، جس کے بعد فوج میں خواتین اہلکاروں کی تعداد ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکا، فرانس، آسٹریلیا، روس، یوکرین اور دیگر ممالک سے تقریباً 7 ہزار افراد کو بھی اسرائیلی فوج میں بھرتی کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بیرونِ ملک سے صرف یہودی افراد کو اسرائیلی فوج میں شامل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ، لبنان اور دیگر محاذوں پر جاری کشیدگی نے اسرائیلی فوجی نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جبکہ سات مختلف محاذوں پر بیک وقت سیکیورٹی صورتحال نے فوجی وسائل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریزرو فوجیوں میں طویل ڈیوٹیوں کے باعث تھکن اور ذہنی دباؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لازمی فوجی سروس کی مدت بڑھانے کے لیے نئی قانون سازی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ فوجی حکام کا مؤقف ہے کہ موجودہ افرادی قوت جنگی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے اور اگر صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں اسرائیلی فوج کو مزید سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل