Tuesday, May 19, 2026
 

قومی اسمبلی میں پہلے اے آئی فعال پارلیمانی نظام کا اجرا

 



قومی اسمبلی میں پہلے اے آئی فعال پارلیمانی نظام کا اجرا کر دیا گیا، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے نظام کے افتتاح کو جدید اور ڈیجیٹل پارلیمان کی جانب اہم پیش رفت قرار دے دیا۔ اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس کے استعمال سے ادارہ جاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں فائلوں کے باعث کام میں تاخیر ہوتی تھی تاہم ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے شفافیت اور تیزی آئی ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ اراکین قومی اسمبلی ایوان کی کارروائی میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں جبکہ قومی اسمبلی کو مرحلہ وار پیپر لیس بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ دستاویزات کو بھی ڈیجیٹل اور پیپر لیس نظام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمان میں اے آئی کے نفاذ کے لیے وزارت آئی ٹی اور این آئی ٹی بی کی معاونت قابل تحسین ہے، جبکہ پارلیمانی امور میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں جدید ڈیٹا سینٹر کے قیام کے لیے بجٹ مختص کیا جا رہا ہے اور جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے مصنوعی ذہانت سے استفادہ ناگزیر ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ترقی یافتہ اقوام کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کے نفاذ سے اراکین پارلیمنٹ کو قانون سازی اور پارلیمانی امور میں بھرپور سہولت میسر آئے گی، جبکہ وزارت آئی ٹی اور این آئی ٹی بی قومی اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں پہلی مرتبہ پیپر لیس ماحول میں کارروائی کے انعقاد کو تاریخی پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کے عملے کی استعداد کار بڑھانے کے لیے این آئی ٹی بی اور وزارت آئی ٹی کے ذریعے تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل