Loading
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کے اعلیٰ حکام کو ہدایت دی کہ ایران کا افزودہ یورینیئم کسی بھی صورت ملک سے باہر منتقل نہ کیا جائے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے افزودہ یورینیئم کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتے ہوئے حکومت کو واضح پالیسی دیدی۔
دو سینئر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ سپریم لیڈر کی اس نئی ہدایت کے بعد امریکا کے اس مطالبے پر سخت مؤقف اپنانے کا فیصلہ کیا جس میں افزودہ یورینیئم کو کسی تیسرے ملک کے حوالے کرنے کو کہا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی حکام مسلسل یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کو ملک سے باہر منتقل کیا جائے۔
اسرائیلی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی ممکنہ امن معاہدے میں یہ شرط شامل ہوگی کہ ایران کا افزودہ یورینیئم بیرونِ ملک بھیجا جائے گا۔
تاہم ایرانی ذرائع کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے واضح ہدایت دی ہے کہ افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ایران سے باہر نہیں جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی اسٹیبلشمنٹ میں اس بات پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے کہ اگر یہ مواد بیرونِ ملک منتقل کیا گیا تو ایران مستقبل میں امریکا یا اسرائیل کے ممکنہ حملوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران کے آئینی نظام میں سپریم لیڈر کو ریاستی معاملات میں حتمی اختیار حاصل ہے اس لیے ان کی ہدایت کو فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔
آئی اے ای اے کے اندازوں کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے پہلے ایران کے پاس تقریباً 440.9 کلوگرام یورینیئم موجود تھا جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا تھا جبکہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے تقریباً 90 فیصد افزودگی درکار ہوتی ہے۔
ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس ذخیرے کا بڑا حصہ ایران کی اصفہان اور نطنز کی جوہری تنصیبات میں محفوظ تھا تاہم حالیہ حملوں کے بعد اس کے مکمل حجم کے بارے میں واضح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل