Saturday, May 23, 2026
 

وزیراعظم کا دورہ چین؛ ایم او یوز پر دستخط، سی پیک اور دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ پر تبادلہ خیال

 



وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران ژجیانگ صوبے میں مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے اور صوبائی قیادت سےملاقات کے دوران صوبائی سطح پر تعاون، پاک-چین اقتصادی راہداری فیز ٹو اور دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے چین کے شہر بانگڑو میں بزنس فورم میں شرکت کی جہاں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا ژجیانگ صوبائی کمیٹی کے پارٹی سیکریٹری مسٹر وانگ ہاؤ نے ان کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی سطح پر تعاون پاک-چین تعلقات کا ایک اہم ستون ہے، جو صنعتی تعاون، زرعی جدیدکاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور برآمدات پر مبنی ترقی کے ذریعے سی پیک فیز ٹو کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے ژجیانگ صوبے کی شان دار ترقیاتی منصوبہ بندی کو سراہتے ہوئے صدر شی جن پنگ کی دور اندیش قیادت کی تعریف کی، جو انہوں نے ژجیانگ صوبائی کمیٹی کے پارٹی سیکریٹری کی حیثیت سے انجام دی، وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ “صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں” کے تصور کو خصوصی طور پر سراہا۔ شہباز شریف نے کہا کہ ژجیانگ کی ترقی اس بات کی عملی مثال ہے کہ ماحولیاتی تحفظ، سبز ترقی اور اعلیٰ معیار کی معاشی نمو کو ایک ساتھ کس طرح آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ژجیانگ صوبے کے ساتھ بالخصوص ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، زراعت، قابل تجدید توانائی، جدید صنعت کاری اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ اس دوران وزیراعظم نے تعاون سے متعلق دو اہم دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی، پہلی مفاہمتی یادداشت ژجیانگ صوبے اور پنجاب کے درمیان سسٹر-پروونس تعلقات کے قیام سے متعلق تھی، جس کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، تعلیم، ثقافت، سیاحت اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعظم نے ہانگژو نارمل یونیورسٹی اور بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے درمیان چین پاکستان مشترکہ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے قیام سے متعلق دستاویز پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی، یہ مرکز تعلیمی تعاون، عملی تحقیق، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور دونوں ممالک عوام دوست، ترقی پر مبنی اور عملی تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف اپنے 4 روزہ دورہ چین کے پہلے مرحلے میں ہانگژو پہنچ گئے، جہاں شیاؤ شین ائیرپورٹ پر صوبہ ژجیانگ کے نائب گورنر شو وینگوانگ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ اور بیجنگ میں پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعظم اس دورے میں چین کی معروف کمپنیوں کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور چینی کمپنی علی بابا کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کریں گے۔ وزیراعظم اپنے دورے کے دوسرے مرحلے میں بیجنگ جائیں گے جہاں ان کی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں شیڈول ہیں، ملاقاتوں میں سیاسی، معاشی اور تزویراتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا جائزہ لیا جائے گا۔ بیان میں بتایا گیا کہ وزیراعظم کی چینی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران خصوصی توجہ سی پیک، تجارت، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون، زرعی جدیدکاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس اور ٹیکنالوجی اور عوامی روابط پر مرکوز ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل