Saturday, May 23, 2026
 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین: کیا کھویا کیا پایا

 



طب کی دنیا میں جتنی اہمیت علاج کی ہوتی ہے اتنی ہی یا اس سے بھی زیادہ اہمیت پوسٹ مارٹم کی ہوتی ہے۔ علاج جب جزوی یا مکمل طور پر ناکام ہوجاتا ہے تو پوسٹ مارٹم کا مرحلہ آتا ہے تاکہ مستقبل میں علاج کی خامیوں پر قابو پایا جا سکے اور طریقہ علاج کو بہتر سے بہتر کیا جا سکے۔ ایسا ہی کچھ حال امریکی صدر ٹرمپ کے دورہ چین کا ہے، اگر امریکی حکام اس کا درست اور ایمانداری سے تجزیہ کرنا چاہے تو ٹھیک ورنہ یہ دورہ امریکا کے زوال کے سفر میں ایک اور سنگ میل ثابت ہوگا، اب جب کہ اس دورے کو ختم ہوئے کافی دن ہوگئے ہیں اور دنیا بھر کے تجزیہ کاروں نے اس پر اپنے تبصرے بھی پیش کردیے ہیں۔ اس کالم میں بھی کچھ گزارشات آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دورہ اس سال مارچ کے آخر یا اپریل کے شروع میں کرنا تھا جو ایران، امریکا جنگ کی وجہ سے موخر ہوا اور بالآخر اس ماہ کی تیرہ سے پندرہ تاریخ کو اپنے ’’انجام‘‘ کو پہنچا۔ ایران سے جنگ شروع کرتے وقت صدر ٹرمپ کا خیال تھا کہ وہ دنوں میں اپنے اہداف حاصل کرلیں گے کہ جس میں ایران میں حکومت کی تبدیلی بھی شامل تھی اور اس کے بعد ایک فاتح کے طور پر چین کے دورے کا آغاز کریں گے۔ یہ ان کی بدقسمتی کہ ایرانی کچھ عجب مٹی کے بنے ہوئے تھے کہ جنگ شروع ہوتے ہی پوری ایرانی قوم اللہ کے کلام کے مطابق امریکا کے سامنے ’’بنیان مرصوص‘‘ (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) بن گئی اور امریکا کو اپنے اہداف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ امریکا کا یہ حال ہے کہ اپنے حامیوں کو کہتا ہے کہ مجھے چھوڑنا مت اور ایران کو دھمکی دیتا ہے کہ مجھے چھوڑو پھر دیکھو میں ایران کا کیا حشر کرتا ہوں۔ اب ان حالات میں ان کا دورہ چین مرتب ہوتا ہے۔ دورے سے پہلے ہی ٹرمپ نے اس دورے کو ’’ڈیل آف دی سنچری‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس دورے سے وہ امریکا کو مزید عظیم بنائیں گے اور امریکا کے لیے گرانقدر مراعات حاصل کریں گے۔ وہ یہ بھول گئے تھے کہ ڈیل کے لیے فریقین کا ایک میز پر ہی نہیں بلکہ ایک صفحے پر ہونا ضروری ہے۔ ایک میز پر تو وہ بیٹھ گئے لیکن ایک صفحہ تو دور کی بات ہے یہاں تو کتاب ہی الگ تھی اور صدر ٹرمپ نے اس کو کھول کر دیکھنے کی بھی کوشش کی لیکن چینی زبان میں ہونے کی وجہ سے کچھ حاصل نہ کرسکے۔ ان کے تمام بڑے بول چین کو ان کی طلب نہیں بلکہ مجبوری کے طور پر سنائی دیے اور چین نے اسی مناسبت سے ان کے دورے سے نبٹنے کی تیاری کی اور مطلوبہ نتائج حاصل کیے۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہوچکا تھا اور چین نے اپنی حکمت عملی سے صرف اس پر امریکا کی شکست کی مہر ثبت کی ہے۔ امریکا کے صدر ٹرمپ مطالبات اور خواہشات کی ایک طویل فہرست کیساتھ اپنے کاروباری شراکت داروں کیساتھ امریکا سے روانہ ہوئے۔ ان کی فہرست کے چیدہ چیدہ نکات درج ذیل تھے۔ امریکا کے لیے بڑے دفاعی اور تجارتی معاہدے حاصل کرنا، چین کی طرف سے امریکی زرعی اجناس کی خریداری، مارکیٹ میں منصفانہ رسائی اور باہمی تجارتی توازن میں بہتری، چینی فینٹینل ادویات کی ترسیل میں کمی، انٹلیکچوئل پراپرٹی کا تحفظ، روس یوکرین جنگ کا خاتمہ، ایران کے اثر و رسوخ کے تدارک میں چینی تعاون اور تائیوان کے مسئلے کا حل شامل تھا۔ ان سب خواہشات اور مطالبات کیساتھ جب صدر ٹرمپ بیجنگ ایئرپورٹ پر اترے تو ان کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی کہ جب چینی صدر یا ان کی کمیونسٹ پارٹی کا کوئی اہم رکن ان کے استقبال کے لیے موجود نہیں تھا۔ یہ دورہ تو اسی وقت ناکام ہوگیا تھا کہ چین کے صدر نے دنیا کی (بظاہر) اکلوتی سپر پاور کے صدر کو اپنے وقت کے قابل نہیں سمجھا، بعد میں جو کچھ ہوا وہ چینی حکمت عملی اور اس پر عملدرآمد کا ایک اعلیٰ شاہکار تھا۔ طیران گاہ پر ان کا استقبال چینی نائب صدر نے کیا جو شاید اسی کام کے لیے مخصوص ہے اور جب صدر ٹرمپ اور صدر شی کی ملاقات ہوئی تو چینی صدر ایک قدم چل کر بھی امریکی صدر کی جانب نہیں بڑھے اور اپنی جگہ کھڑے ہوکر ان کا انتظار کیا۔ ویسے بھی زیادہ چلنا صدر ٹرمپ کے لیے پسندیدہ نہیں ہے۔ بدنی بولی کے ماہر بتاتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی چال اور اطوار ایک شکست خوردہ شخص کی تھی اور آخر میں صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں اس پر مہر بھی ثبت کردی۔ صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں یہ نظریہ پیش کیا کہ پرانی اور نئی آنے والی عالمی طاقتوں کے مابین جنگ ناگزیر نہیں ہے۔ انھوں نے اس تصور کو ’’تھیوسیڈائڈز ٹریپ‘‘ کا نام دیا جو کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گراہم ایلیسن کی جانب سے وضع کردہ ایک اصطلاح ہے۔ تھیوسیڈائڈز ٹریپ ایک قدیم یونانی تاریخ کا نظریہ ہے۔ اس کے مطابق جب کوئی ابھرتی ہوئی طاقت کسی قائم شدہ عالمی طاقت کو چیلنج کرتی ہے تو دونوں کے درمیان کشیدگی جنگ کا روپ دھار لیتی ہے۔ صدر شی جن پنگ نے زور دیا کہ چین اور امریکا کو مل کر اس فرضی جال سے نکلنا چاہیے اور عظیم طاقتوں کے درمیان تعلقات اور تعاون کا ایک نیا نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔ غرضیکہ چینی صدر لیکچر دیتے رہے اور صدر ٹرمپ شاید زندگی میں پہلی بار لیکچر سنتے رہے اور سر ہلاتے رہے۔ صدر ٹرمپ جو زندگی بھر لیکچر دیتے رہے تھے اور اسی کو اپنی کامیابی سمجھتے تھے۔ اپنی زندگی میں شاید پہلی دفعہ صدر ٹرمپ لیکچر کے وصول کنندہ تھے اور یہ تجربہ ان کے لیے بالکل نیا تھا اور وہ قطعی اس کے لیے تیار نہیں تھے، اسی لیے اپنی جوابی تقریر میں ان کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ وہ چینی صدر کا لیکچر بھی سنے اور پھر اس کی تعریف پر بھی مجبور ہوں۔ یہ امریکا کی ہزیمت ہی نہیں بلکہ شکست کا مکمل اور غیر مشروط اعلان تھا اور دنیا بھر کے تجزیہ کار اس کو اسی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ چین میں قیام کے دوران چینی ذرائع ابلاغ نے صدر ٹرمپ کو ایک چینی نام دیا تھا کہ جس کا اردو ترجمہ ہوتا ہے’’ملت کا معمار‘‘ بظاہر یہ ایک مثبت اصطلاح ہے لیکن حقیقت میں یہ اصطلاح طنزیہ معنوں میں استعمال کی گئی کہ صدر ٹرمپ امریکا سے زیادہ چین کے فائدے کے لیے کام کررہے ہیں۔ ایک اور بات کا بھی ذرائع ابلاغ میں بہت چرچا رہا کہ اگر آپ کا دشمن غلطی کررہا ہوں تو اس کو مت روکو اور یہ بات بھی صدر ٹرمپ پر صادق آتی ہے۔ امریکی صدر کی گفتگو میں صرف کھوکھلے الفاظ تھے جب کہ چینی صدر کے پاس نہ صرف نپے تلے الفاظ تھے بلکہ اپنے الفاظ کی تائید میں عمل کی قوت بھی تھی۔ ویسے بھی عمل کی آواز الفاظ سے زیادہ بلند ہوتی ہے۔ صدر شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ رجیم کیسے چینج کرتے ہیں اور اس کا تجربہ بھی امریکا پر ہی کر کے دکھایا اور دنیا اس کا عملی مظاہرہ اس سال نومبر یا اس کے بعد دیکھیں گی، اگر امریکی یہاں سے کچھ بدلنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے تو انھیں اپنے صدر کو خاموشی اور کم بولنے کے فوائد پر قائل کرنا ہوگا جو اگر ناممکن نہیں انتہائی مشکل ضرور ہے کیونکہ یہ صدر ٹرمپ کی بنیادی تربیت کیخلاف ہے جو آج تک انھیں فایدہ دیتی رہی ہے لیکن اب انتہائی نقصان پہنچا رہی ہے۔ ہم نے جو تجزیہ کیا ہے بین الاقوامی تعلقات کے لوگ یہ کرنے کے بھی ڈالر لیتے ہیں لیکن جس طرح دنیا پر امریکا کا قرضہ تھا جس میں سے کچھ چین نے ادا کرنے کی کوشش کی ہے بالکل اسی طرح امریکا کا پاکستان پر بھی بہت قرضہ تھا اور ہے کہ جس میں سے ہم نے بھی کچھ ادا کرنے کی سعی کی ہے لیکن اس سے آگے کی خدمات کے لیے ڈالر ادا کرنے ہوں گے کیونکہ مفت کے مشوروں کی کوئی عزت نہیں ہوتی ہے۔ اسی لیے اس تحریر کا عنوان ہے ’’صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ چین: کیا کھویا کیا پایا‘‘ اور اگر ایک پرانے سماجی ذرائع ابلاغ کے لطیفے کے مطابق اگر امریکی ماہرین نے اس دورے کا تجزیہ یہ کیا ہے کہ کھویا وہ ہوتا ہے جو گاجر کے حلوے میں ڈالا جاتا ہے اور پایا گائے، بھینس اور بکرے کے پاؤں کے سالن کو کہتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ امریکا کو بحیثیت سپر پاور الوداع کہنے کا وقت آگیا ہے بلکہ وقت شروع ہوئے بھی خاصا عرصہ بیت گیا ہے۔ ویسے بھی دنیا قاضی کے کتے کے مرنے پر آتی ہے خود قاضی کی موت پر تو چار لوگ نہیں ملتے ،کیونکہ پورا شہر نئی سپر پاور میرا مطلب ہے کہ نئے قاضی کے استقبال کو گیا ہوتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل