Saturday, May 23, 2026
 

پاکستان میں نئی ایئرلائنز کیوں ضروری ہیں؟

 



پاکستان جیسے جغرافیائی لحاظ سے وسیع، متنوع اور اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل ملک میں فضائی رابطے محض ایک کاروباری ضرورت نہیں بلکہ قومی وحدت، معاشی ترقی اور علاقائی مساوات کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں فضائی شعبہ گزشتہ کئی دہائیوں سے محدود مسابقت، بیوروکریٹک پیچیدگیوں اور غیرمتوازن پالیسیوں کا شکار رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک کے دوردراز علاقے آج بھی تیز، محفوظ اور باقاعدہ فضائی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کے درمیان تو متعدد پروازیں دستیاب ہیں لیکن بلوچستان، جنوبی پنجاب، گلگت بلتستان اور اندرونِ سندھ کے کئی علاقے آج بھی فضائی تنہائی کا شکار ہیں۔ تربت، پنجگور، گوادر، دالبندین،ژوب اور اس جیسے کئی شہروں کے عوام کے لیے سفر اب بھی ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ ایسے میں اگر کوئی نئی نجی ایئرلائن ان محروم علاقوں کو قومی دھارے سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے قومی خدمت تصور کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف ایک کاروباری سرگرمی۔ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک نے فضائی رابطوں کو علاقائی ترقی کا بنیادی ستون بنایا۔ امریکا، چین، ترکی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے اپنی داخلی ایوی ایشن کو فروغ دے کر نہ صرف سیاحت بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور قومی یکجہتی کو بھی مستحکم کیا۔ چین نے اپنے مغربی اور نسبتاً پسماندہ علاقوں کو مرکزی شہروں سے جوڑنے کے لیے درجنوں علاقائی ایئرپورٹس اور مقامی ایئرلائنز کی حوصلہ افزائی کی۔ اسی طرح ترکی نے اندرونِ ملک فضائی نیٹ ورک کو وسعت دے کر اپنے دورافتادہ علاقوں کو معاشی ترقی کے دھارے میں شامل کیا۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ یہاں نئی ایئرلائنز کے لیے لائسنسنگ، روٹس، گراؤنڈ ہینڈلنگ، سیکیورٹی کلیئرنس اور دیگر مراحل اتنے پیچیدہ اور وقت طلب ہیں کہ اکثر سرمایہ کار ابتدائی مرحلے میں ہی مایوس ہو جاتے ہیں۔ یہ سوال مسلسل اٹھتا رہا ہے کہ آیا ہماری پالیسی واقعی مسابقت کو فروغ دیتی ہے؟ نجی ایئرلائنز نہ صرف کرایوں میں توازن پیدا کرتی ہیں بلکہ سروس کے معیار کو بھی بہتر بناتی ہیں۔ مسافر کو بہتر سہولت، وقت کی پابندی اور جدید طیاروں کا فائدہ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ’’Low Cost Airlines‘‘ نے فضائی سفر کو متوسط طبقے کی پہنچ میں لا کھڑا کیا۔ گوادر کو پاکستان کا مستقبل قرار دیا جاتا ہے، سی پیک کو گیم چینجر کہا جاتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر گوادر، تربت اور پنجگور جیسے علاقے ملک کے بڑے شہروں سے تیز اور سستی فضائی سہولتوں کے ذریعے منسلک ہی نہیں ہوں گے تو وہاں سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمی کیسے فروغ پائے گی؟ سڑکوں کے طویل اور بعض اوقات غیرمحفوظ سفر نے ان علاقوں کے عوام کو مزید احساسِ محرومی میں مبتلا کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فضائی رابطے صرف سفر نہیں بلکہ ریاستی موجودگی اور قومی توجہ کی علامت ہوتے ہیں۔ جب کسی دوردراز علاقے میں باقاعدہ پروازیں شروع ہوتی ہیں تو وہاں کے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ بھی قومی ترقی کے سفر کا حصہ ہیں۔ یہی احساس قومی یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے۔ اس وقت پاکستان کو ایک نئی فضائی پالیسی کی ضرورت ہے۔ ایسی پالیسی جو نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے، نئی ایئرلائنز کے لیے شفاف اور تیزرفتار نظام متعارف کرائے، علاقائی روٹس پر خصوصی مراعات دے اور چھوٹے شہروں کو بڑے اقتصادی مراکز سے جوڑنے کو قومی ترجیح بنائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ علاقائی ایوی ایشن کو صرف کاروبار نہیں بلکہ قومی ترقی کے ایک اسٹرٹیجک شعبے کے طور پر دیکھے۔ آج دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ معیشتیں رابطوں سے مضبوط ہوتی ہیں اور قومیں فاصلے کم کرنے سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر پاکستان واقعی معاشی استحکام، قومی ہم آہنگی اور علاقائی ترقی چاہتا ہے تو اسے نئی ایئرلائنز کے لیے دروازے کھولنا ہوں گے۔ کیونکہ بعض اوقات ایک پرواز صرف مسافروں کو نہیں بلکہ امیدوں، مواقعوں اور محروم علاقوں کو مستقبل سے جوڑتی ہے۔ ملک کو آپس میں جوڑنے کے لیے ذرائع نقل وحمل جسے انفراسٹرکچر بھی کہا جاتا ہے، کی تعمیر انتہائی ضروری ہے۔ پور ایورپ ریلوے لائنوں کے ساتھ ایک دوسرے سے لنک ہے جب کہ ہوائی سفر بھی ہر جگہ کے لیے ممکن ہے۔ چھوٹی چھوٹی نجی ایئرلائنیں پورے یورپ میں اپنا بزنس کر رہی ہیں۔ بزنس سے زیادہ ان ایئرلائنز نے یورپ کے عوام کو بھی آپس میں جوڑنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسی طرح روڈ نیٹ ورک نے بھی پور ے یورپ کو آپس میں جوڑ رکھا ہے۔ چین نے روڈ اینڈ بیلٹ کا جو منصوبہ بنایا ہے، اس کا مقصد بھی تمام ممالک کو آپس میں جوڑنا ہے لہٰذا آج کے دور میں فضائی کنیکٹی ویٹی بھی انتہائی ضروری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل