Saturday, May 23, 2026
 

جائیں تو جائیں کہاں

 



تہوار انسان کی اجتماعی زندگی میں محض خوشی کے چند لمحوں کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ قوموں کی تہذیبی یادداشت، مذہبی وابستگی اور باہمی محبت کے مظاہر بھی سمجھے جاتے ہیں۔ یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جب انسان اپنے ذاتی غم، مصروفیات اور اختلافات سے بالاتر ہو کر دوسروں کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے، جیسا کہ عید کے دن ناراض رشتے داروں کو منایا جاتا ہے، عزیزوں اور دوستوں کے گھروں میں مٹھائی اور قربانی کے گوشت کی صورت میں آسودگی پہنچائی جاتی ہے اور معاشرے میں اخوت و ہمدردی کی ایک خوشگوار فضا جنم لیتی ہے۔ تہواروں کی اصل روح بھی یہی ہے کہ انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے اور اجتماعی خوشی کو اپنی ذات سے زیادہ اہمیت دے۔ ترقی یافتہ اور مہذب معاشروں میں آج بھی تہوار اپنی اس اصل معنویت کے ساتھ زندہ ہیں، جہاں ان مواقعے کو سماجی ہم آہنگی، نظم و ضبط اور انسانی تعلقات کے استحکام کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے تہوار رفتہ رفتہ روحانیت اور اجتماعی محبت سے دور ہو کر کاروبار، موسمی منافعے ، وقتی نمائش اور اشتہار بازی تک محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اب عید کا انتظار یا تو بچوں کو ہوتا ہے، جن کی آنکھوں میں نئے کپڑوں اور عیدی کی چمک بسی ہوتی ہے یا پھر تاجروں کو، جن کے لیے یہ دن منافع کے سنہری موسم کی حیثیت رکھتے ہیں، جب کہ وہ قلبی سکون، عقیدت اور باہمی محبت، جو کبھی تہواروں کی اصل پہچان ہوا کرتی تھی، آہستہ آہستہ زندگی کے شور میں کہیں گم ہوتی جا رہی ہے۔ چونکہ تہواروں کا تعلق اجتماعی سرگرمیوں سے ہوتا ہے، اس لیے ان دنوں میں پورا شہر ایک ساتھ حرکت میں آ جاتا ہے اور یہی مرحلہ انتظامیہ کے لیے اصل امتحان بن جاتا ہے۔ لیکن تہواروں کی تاریخیں اور نوعیت پہلے سے معلوم ہوتی ہیں، اس لیے ان کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی جاتی ہے تاکہ عوامی زندگی متاثر نہ ہو اور خوشی کا ماحول بدنظمی کی نذر نہ ہونے پائے۔ ترقی یافتہ ممالک میں لاکھوں افراد تہواروں کے دوران گھروں سے نکلتے ہیں، بازار آباد ہوتے ہیں، سڑکیں مصروف رہتی ہیں اور عوامی مقامات پر غیر معمولی رش دیکھنے میں آتا ہے، مگر نظم و ضبط، بہتر ٹریفک نظام اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث شہری زندگی اپنی روانی برقرار رکھتی ہے۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ عام آدمی کی زندگی پہلے ہی مسائل کی گرد میں لپٹی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور جیسے ہی کسی تہوار کے دن قریب آتے ہیں، شہری مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے اور انتظامیہ اکثر ایسے دکھائی دیتی ہے جیسے اسے ہر سال آنے والے ان مواقعے کی آمد کا اندازہ ہی نہ ہو۔عیدالاضحی جیسے مقدس، روح پرور اور عظیم تہوار کے قریب آتے ہی یہ انتظامی کمزوریاں مزید نمایاں ہونے لگتی ہیں۔ کراچی، جو پہلے ہی بے شمار شہری مسائل کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، ان دنوں میں ایک ایسے ہجوم زدہ شہر کا منظر پیش کرتا ہے جہاں انسان لمحہ بھر کے سکون کو بھی ترسنے لگتا ہے۔ ذہنی آسودگی تو درکنار، روزمرہ زندگی کی معمولی ضروریات پوری کرنا بھی ایک دشوار مرحلہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ گلیوں اور محلوں کا نقشہ بدل جاتا ہے، کہیں قربانی کے جانوروں کے لیے گلیاں، فٹ پاتھ اور سڑکیں گھیر لی جاتی ہیں، کہیں عارضی باڑے اور خیمے عوامی راستوں کو نگل لیتے ہیں اور کہیں پوری گلی ایک وقتی مویشی منڈی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایسے میں شہری خود کو اپنی ہی بستی میں اجنبی محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت مزید اذیت ناک ہو جاتی ہے جب قربانی کے جانوروں کی وجہ سے محدود ہونے والے راستوں کے ساتھ ترقیاتی کاموں کے نام پر کھودی گئی سڑکیں، ادھڑی ہوئی گلیاں اور نامکمل منصوبے شہری زندگی کو مفلوج کر دیتے ہیں۔ شہری جب گھر سے نکلتا ہے تو اسے واقعی یہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر وہ جائے تو جائے کہاں؟ ہر راستہ یا تو بند ملتا ہے، یا شکستہ یا پھر ٹریفک کے بے ہنگم شور میں پھنسا ہوا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان تمام مشکلات کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے نہ تو موثر منصوبہ بندی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی عوامی سہولت کا کوئی سنجیدہ احساس۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے، متبادل راستے فراہم کرنے، عارضی تجاوزات کو منظم کرنے اور شہریوں کو بروقت آگاہی دینے جیسے بنیادی اقدامات بھی اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً خوشیوں، قربانی اور ایثار کے جذبے سے بھرپور یہ مقدس تہوار شہریوں کے لیے ذہنی کوفت، جسمانی تھکن اور اعصابی دباؤ کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان مسائل کا حل ناممکن نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں اس سے کہیں بڑے اجتماعات، تہوار اور قربانی کی سرگرمیاں نہایت منظم انداز میں انجام دی جاتی ہیں۔ وہاں آبادی بھی زیادہ ہوتی ہے، سرگرمیوں کا دائرہ بھی وسیع ہوتا ہے، مگر ذمے داری، پیشگی منصوبہ بندی اور قانون پر عمل درآمد کی بدولت شہری زندگی انتشار کا شکار نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں بھی اگر متعلقہ ادارے سنجیدگی، نظم و ضبط اور عوامی خدمت کے حقیقی جذبے کے ساتھ اپنی ذمے داریاں نبھائیں تو یہی شہر، جو آج بدنظمی اور پریشانی کی تصویر بنا ہوا ہے، سکون، خوبصورتی اور بہتر شہری نظم کی ایک عمدہ مثال بن سکتا ہے۔ لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب ہمیں دوسروں کے احساسات اور اجتماعی ذمے داریوں کا شعور ہو۔ افسوس کہ نہ حکومت عوام کی مشکلات کو سنجیدگی سے سمجھتی ہے اور نہ ہی لوگ ایک دوسرے کے آرام و سکون کا خیال رکھتے ہیں۔ محض دکھاوے اور شہرت کی خاطر کئی کئی جانور خرید لیے جاتے ہیں، بغیر اس بات پر غور کیے کہ ان کی مناسب دیکھ بھال، صفائی اور جگہ کا انتظام موجود بھی ہے یا نہیں۔ اکثر لوگ اپنی محدود سہولیات کے باوجود متعدد جانور لے آتے ہیں، مگر ایک لمحے کو بھی نہیں سوچتے کہ گلیاں بند ہونے سے عام لوگوں کو کن دشواریوں کا سامنا ہوگا، قربانی کے دن جانور کہاں ذبح کیے جائیں گے، آلائشیں اور فضلہ کہاں ٹھکانے لگایا جائے گا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کیسے ہوگی۔ یہ المیہ صرف حکومت کی بے حسی نہیں بلکہ عوامی عدم شعور بھی ہے۔ ہم نے قربانی کی روح کو محض مہنگا جانور خریدنے اور گوشت فریزر میں محفوظ کرنے تک محدود کر دیا ہے، حالانکہ سنت ابراہیمی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ ایثار، احساسِ ذمے داری، صفائی، نظم و ضبط اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا درس بھی دیتی ہے۔ کیا ان شرعی اور اخلاقی ذمے داریوں سے ہماری کوئی جواب دہی نہیں بنتی؟ بہت غور و فکر کے بعد بھی میں اس نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہی ہوں کہ اس میں کتنا قصور عوام کا ہے اور کتنا حکومت کا، یا اصل ذمے دار کون ہے؟ عوام یا حکومت؟

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل