Loading
اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ تھنک ٹینک نے شیڈو بجٹ پیش کرتے ہوئے 4 سال سے 30 ارب ڈالر پر محدود ملکی برآمدات کو 80 ارب ڈالر تک بڑھانے، ٹیکس دہندگان کی تعداد 30 لاکھ سے بڑھا کر 10 کروڑ تک پہنچانے، دفاعی بجٹ میں 35 فیصد اضافے اور آئندہ پانچ برسوں میں جی ڈی پی کی شرح نمو 8.5 فیصد تک لے جانے کی تجاویز پیش کر دی ہیں۔
یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سربراہ ایس ایم تنویر نے بتایا کہ تھنک ٹینک میں تجربہ کار سینئر صنعتکار، ٹیکنوکریٹس اور ماہرینِ اقتصادیات شامل ہیں، جنہوں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران ملکی معیشت کا جامع جائزہ لیتے ہوئے شیڈو بجٹ، شیڈو اکنامک سروے، ٹیکس پالیسی و ایڈمنسٹریشن ریفارمز اور پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شیڈو بجٹ محض تجاویز پر مشتمل نہیں بلکہ ایک مکمل، مربوط اور قابلِ عمل متبادل معاشی فریم ورک ہے، جو پاکستان کی درست معاشی سمت کے تعین کی سنجیدہ اور منظم کوشش ہے۔
ایس ایم تنویر کے مطابق شیڈو بجٹ میں پہلی مرتبہ صنعتوں کے لیے عملی ریلیف، سرمایہ کاری کے فروغ کی واضح حکمتِ عملی، برآمدات میں اضافے کا جامع روڈ میپ، معیشت کو دستاویزی شکل دینے، اصلاحات نافذ کرنے اور ریونیو نیوٹرل گروتھ ماڈل کو ایک ہی فریم ورک میں پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی بحالی اور مستقبل کی سمت متعین کرنے کا ایک مکمل عملی روڈ میپ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ تھنک ٹینک نے آئندہ پانچ برسوں میں فی کس آمدن 1900 ڈالر سے بڑھا کر 2900 ڈالر تک لے جانے کا جامع منصوبہ پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد، جبکہ تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
شیڈو بجٹ میں شرحِ سود اور ڈالر کی قدر میں کمی، 40 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو صفر تک لانے، پنشن میں 23 فیصد اضافے اور ٹیکس گوشوارے کو سادہ اور ایک صفحے تک محدود کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل