Loading
کبھی کبھی تاریخ میں کچھ دن صرف ایک دن نہیں رہتے وہ انسانی ضمیر کی دستک بن جاتے ہیں۔ 29 مئی بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جب دنیا اُن لوگوں کو یاد کرتی ہے جو جنگوں کے شور میں خاموشی سے امن کا پرچم اٹھائے کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ دن keepers International Day of United Nations Peace کے طور پر ہر سال منایا جاتا ہے اور اس کا اصل مقصد صرف تقریبات یا بیانات نہیں بلکہ اُن انسانی جانوں کو تسلیم کرنا ہے جو دنیا کے سب سے خطرناک علاقوں میں امن کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جو نہ کسی ملک کے فاتح ہوتے ہیں نہ کسی جنگ کے مدعی۔ یہ وہ ہیں جو شکست خوردہ زمین پر امید کا چراغ جلانے جاتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو بندوقوں کے سائے میں بھی مکالمے کی گنجائش تلاش کرتے ہیں۔
یہ United Nations Peacekeeping مشن کے تحت دنیا بھر میں تعینات کیے جاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ جو دوسری عالمی جنگ کے بعد اس امید کے ساتھ وجود میں آئی تھی کہ شاید انسان اب جنگ سے کچھ سیکھ لے گا ،آج بھی اسی خواب کی شکست و ریخت کے درمیان کھڑی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ خواب اب بھی زندہ ہے؟
میں جب یہ سطور لکھ رہی ہوں تو میرے ذہن میں صرف عالمی سیاست اور اس ادارے کے کردار اور مقاصد کے ساتھ یہ خیال بھی آرہا ہے کہ میری نواسی پرما عباس نے نیویارک میں رہتے ہوئے چھ ماہ اسی عالمی ادارے کے ساتھ کام کیا۔ وہ Sciences Po سے ماسٹرز کرنے کے دوران وہاں بطور انٹرن گئی تھی۔
وہ جب چھٹیوں میں پاکستان واپس آئی تو ہم نے دیر تک ان موضوعات پہ باتیں کیں کہ وہاں کیسے فیصلے کیے جاتے ہیں اور کیسے امن کے حصول کے لیے پیچیدہ سیاسی بحث و مباحثہ ہوتا ہے۔ کس طرح مختلف ممالک کے نمائندے ایک میز کے گرد جمع ہوکر مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پرما نے United Nations General Assembly کے 79th سیشن میں کام کیا تھا۔ اس نے ذکر کیا کہ کیسے مختلف ممالک کے نمائندے ایک ہی ہال میں بیٹھ کر دنیا کے مسائل پر گفتگو کرتے ہیں اور ہر گفتگو کے پیچھے ذہن میں اپنے اپنے ممالک کے مفادات ہوتے ہیں۔ اس نے جن سیاست دانوں کو اقوامِ متحدہ کے ہال میں دیکھا تھا، اس کا بھی تذکرہ کیا تھا۔ ذہن میں ایک سوال جنم لیتا ہے کیا اقوامِ متحدہ واقعی وہ عالمی ضمیر ہے جس کا تصور کیا گیا تھا؟ یا یہ صرف ایک ایسا فورم ہے جہاں بڑی طاقتیں اپنے فیصلوں کو قانونی جواز دینے کے لیے اکٹھی ہوتی ہیں اور چھوٹے ممالک صرف تماشائی بن کر رہ جاتے ہیں؟
آج کی دنیا میں یہ سوال پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ جنگیں ختم نہیں ہو رہیں، صرف شکل تبدیل ہو رہی ہے۔ کبھی یہ جنگیں براہ راست فوجی مداخلت کی صورت میں ہوتی ہیں کبھی معاشی دباؤ کی شکل میں اور کبھی سفارتی تنہائی کے ہتھیار کے طور پر۔ ایسے میں اقوامِ متحدہ کا کردار اکثر کمزور محدود اور بعض اوقات علامتی محسوس ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے، اگر یہ ادارہ نہ ہوتا تو شاید دنیا مزید بے قابو ہو جاتی۔ کم از کم ایک ایسا فورم ضرور موجود ہے جہاں دنیا کے ممالک ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
یہ معمولی بات نہیں تاریخ نے ہمیں بارہا بتایا ہے کہ جب مکالمہ ختم ہو جاتا ہے تو جنگیں شروع ہو جاتی ہیں۔اسی لیے میں یہ سمجھتی ہوں کہ United Nations کو باقی رہنا چاہیے۔ صرف باقی نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے مضبوط باوقار اور حقیقی معنوں میں موثر ہونا چاہیے، کیونکہ اگر عالمی ادارے کمزور ہو جائیں تو پھر انصاف کا تصور بھی طاقت کے تابع ہو جاتا ہے۔
دنیا میں آج جو غیر یقینی کیفیت ہے وہ ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ امن کوئی قدرتی حالت نہیں بلکہ ایک مسلسل کوشش ہے، اور یہ کوشش صرف قراردادوں سے نہیں چلتی اس کے لیے انسانوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ انسان جو سرحدوں سے بالاتر سوچتے ہیں۔ ایسے میں امن کے محافظوں کی اہمیت اور زیادہ اجاگر ہو جاتی ہے۔
یہ وہ مرد و زن ہیں جو اپنے گھر اپنے بچے اپنے والدین اور اپنی روزمرہ زندگی چھوڑ کر ایسے علاقوں میں جاتے ہیں جہاں زندگی خود خطرے میں ہوتی ہے۔ وہ وہاں امید کی علامت ہوتے ہیں۔ کبھی وہ تباہ شدہ شہروں میں بچوں کے لیے محفوظ راستے بناتے ہیں، کبھی جنگ بندی کی نگرانی کرتے ہیں اور کبھی صرف اپنی موجودگی سے یہ پیغام دیتے ہیں کہ دنیا نے اس خطے کو مکمل طور پر نہیں چھوڑا۔
ان کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد ہے، وہ نہ مکمل طور پر جنگ میں ہوتے ہیں نہ مکمل طور پر امن میں۔ وہ دونوں کے درمیان ایک نازک لکیر پر کھڑے ہوتے ہیں۔ شاید یہی ان کی سب سے بڑی قربانی ہے کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو موخر کر کے اجتماعی انسانیت کے لیے وقت نکالتے ہیں۔
میں جب اپنی نواسی کی باتیں سنتی ہوں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ عالمی ادارے صرف پالیسیوں اور قراردادوں کا نام نہیں بلکہ نوجوان نسل کے خوابوں کا بھی حصہ ہیں۔ وہ نسل جو دنیا کو صرف اپنے ملک کی حد تک نہیں دیکھتی بلکہ وہ پوری دنیا کو اپنا سمجھتی ہے۔ پرما جیسے نوجوان اس بات کی علامت ہیں کہ ابھی دنیا میں امید باقی ہے۔لیکن امید کے ساتھ سوال بھی موجود ہے۔ کیا ہم اس نظام کو اتنا منصفانہ بنا رہے ہیں، جتنا اسے ہونا چاہیے؟ یا ہم نے اسے طاقت کے توازن میں اس طرح الجھا دیا ہے کہ کمزور آوازیں دبنے لگی ہیں ،یہ سوال آج ہر اُس انسان کے سامنے ہے جو امن پر یقین رکھتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اقوامِ متحدہ ناکام ہے یا کامیاب۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس سے کیا توقع رکھتے ہیں اور ہم خود اس کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کوئی بھی عالمی ادارہ اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک ریاستیں اپنی ذمے داریوں کو صرف مفاد کی عینک سے دیکھتی رہیں۔
آج کے دن ہمیں صرف ایک ادارے کو نہیں بلکہ ایک تصور کو یاد کرنا چاہیے، امن کے تصور کو۔ وہ امن جو صرف جنگ کی عدم موجودگی نہیں بلکہ انصاف برابری اور انسانی وقار کی موجودگی کا نام ہے۔وہ تمام لوگ جو دنیا بھر میں امن کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، میں انھیں بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہوں اور مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ میری نواسی بھی ان لوگوں میں شامل ہے۔ جو اپنے گھروں سے دور اجنبی زمین اجنبی زبانوں کے درمیان صرف ایک امید کے ساتھ کھڑے ہیں کہ شاید آنے والا کل بہتر ہو۔ انسانیت نے ابھی مکمل طور پر شکست نہیں کھائی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل