Tuesday, May 26, 2026
 

نیا دور کے اداریے

 



مجید رحمانی ایک ترقی پسند استاد ، ادیب اور محقق ہیں۔ مجید رحمانی نے زندگی کا ایک بڑا حصہ ادب کے نئے گوشوں کی تلاش میں صرف کیا ہے، وہ آج کل ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری جامعہ کراچی میں محقق کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر معروف محقق ڈاکٹر جمیل جالبی نے ساری زندگی کتابوں کے مطالعے اور تحقیق میں گزاری ہے۔ ان کے ورثے میں ہزاروں کتابیں بھی شامل تھیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے صاحبزادے اپنے والد کی روایت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے سول سروس آف پاکستان کا حصہ بن گئے تھے مگر انھوں نے تحقیق کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ ڈاکٹر خاور جمیل نے کراچی یونیورسٹی کی تاریخی محمود حسین لائبریری سے متصل ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری قائم کی۔ اس لائبریری میں طلبہ کے لیے کتابوں کے علاوہ ادیب مختلف موضوعات پر تحقیق کررہے ہیں۔ ڈاکٹر خاور جمیل نے گلناز محمود اور مجید رحمانی کے ساتھ مل کر ادبی رسالوں نیا دور اور ساقی پر تحقیق کی۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے ان رسالوں کے لیے تحریر کردہ اداریوں کو علیحدہ علیحدہ شائع کیا گیا۔ مجید رحمانی صاحب نے یہ قیمتی ادبی سرمایہ راقم کو عطاء کیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی دنیائے ادب کی روایت ساز اور رجحان ساز شخصیت تھے۔ بیسویں صدی کے نصب آخر میں تو آزاد وطن کے ابتدائی برسوں میں جب کہ علمی و ادبی ادارہ شکستہ حالت میں تھا، معاشرہ ثقافتی بحران کا شکار تھا۔ جالبی صاحب کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہوتا ہے۔ فیض صاحب کی شاعری پر تنقیدی مضمون دوران تعلیم آپ کی اولین تحریر تھی۔ جالبی صاحب ایک ادیب، نقاد، محقق، مترجم، مدیر، مورخ اور ماہر لسانیات تھے۔ جالبی صاحب کی بطور مدیر خدمات کی ابتداء 1949 میں ہفت روزہ ’’پیام مشرق‘‘ کراچی سے ہوتی ہے جس سے وابستہ رہ کر انھوں نے چھ ماہ تک مدیر کے فرائض سرانجام دیں۔ مقبول ادبی جریدہ ساقی کے مدیر شاید احمد دہلوی نے جالبی صاحب کو ادارتی مجلس میں اس وقت شامل کرلیا، جب محمد حسن عسکری نے سرکاری جریدہ ماہ نو کے مدیر کے منصب پر فائز ہونے کی وجہ سے ساقی کی ادارت سے اپنا نام واپس لے لیا تو ساقی نے اپنے عہد کے نامور تخلیق کاروں کی تحریروں کو اردو دنیا کے قارئین تک رسائی کو ممکن بنایا۔ ساقی میں ’’باتیں‘‘ کے عنوان کے تحت ان کے تحریر کردہ پچیس اداریے شائع ہوچکے ہیں۔  نیا دور کا اجراء شاہد احمد دہلوی سرپرستی میں قائم کردہ پاکستان کلچرل سوسائٹی کے زیر اہتمام ہوا تھا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی دلچسپی کے شعبوں میں جمالیات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ علمی اور فکری بحران کے دنوں میں ایک سنجیدہ اور معیاری ادبی جریدہ کے سرورق کے لیے عظیم مصوروں کے شہہ پاروں کا انتخاب فن شناسی اور فن کا قدر دان ہی کرسکتا ہے۔ نیا دور کے اولین شمارہ کا سرورق آذر زوبی کے فن اور رنگ و خیال کا نتیجہ ہے۔ جنوری 1993 تک تمام 44 شمارے زبیدہ آغاز، عبدالرحمن چغتائی، لیاقت حسین اور زیدی کے فن کاروں سے مزین ہیں۔ ابتدائی دو برسوں میں ہر سال نیا دور کا ایک ایک شمارہ شائع ہوا جب کہ 1958 سے 1963 تک سالانہ دو شمارے شائع ہوتے رہے۔ افسانہ نمبرطویل کہانی نیا دور کے یادگار شمارے ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے بحیثیت مدیر نیا دور کے 43 شماروں میں سے 22شماروں کے اداریے رقم کیے۔ قبل ازیں ساقی کی ادارت کے دوران ’باتیں‘ کے عنوان سے جالبی صاحب کے تحریر کردہ 125 اداریے شائع ہوچکے تھے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے نیا دور کے اداریہ میں کچھ یوں لکھا۔ ’’بات صرف ادیبوں کے عدم تعاون کی ہی نہیں ہے بلکہ اس تخلیقی لگن کی ہے جو اب دنوں میں سرد پڑچکی ہے۔ بڑے بڑے لوگ خاموش ہیں۔ افسانے اب بھی لکھے جارہے ہیں، نظمیں اب بھی کہی جار ہیں، مگر نہ معلوم کیوں ہمارا ادب ہمارا نہیں معلوم ہوتا۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ ایک آدھ بھی اچھا لکھنے والا موجود نہ ہو، انفرادی طور پر ہمارے یہاں ایسی ایسی طاقتور آوازیں موجود ہیں جو ہمارا مزاج تبدیل کیے دے رہے ہیں مگر بحیثیت مجموعی آج ادب کا وہ ہنگامہ اور زور شور نہیں ہے جو آج سے آٹھ دس سال پہلے تھا۔ ایک تحریک تھی۔ ایک قوت تھی، جس کی نمائندگی ہر شخص اپنے طور پر کرہا تھا۔ ہر شخص لکھنا اور اچھا لکھنا اپنا ایمان سمجھتا تھا مگر آج تو لوگوں کے سامنے یہ سوال ہے کہ کیوں لکھیں؟ ہے بھی یہ بات کچھ سچی ہی۔ اصل میں کوئی نصب العین کوئی لائحہ عمل ہمارے پیشِ نظر نہیں رہا۔ کوئی قوت نہیں رہی جس کا دباؤ ہمارے ذہن اور احساسات پر یکساں مرتب ہو لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ جن کے پاس کوئی نصب العین بھی ہے وہ آج کیوں خاموش ہیں اور اگر کچھ لکھ بھی رہے ہیں تو اس میں ایک انحطاط کیوں پایا جارہا ہے، یہ بات کچھ ایسی ہے جس کا جواب ڈھونڈنا آسان نہیں۔‘‘ ڈاکٹر جمیل جالبی نے ایک اور اداریے میں یوں اظہار خیال کیا۔ ’’علاقائی زبانوں کی ترقی و نشوونما ضروری ہے۔ جو صوبے چاہتے ہیں کہ ان کی علاقائی زبان ذریعہ تعلیم ہو، تو اسے بتدریج ذریعہ تعلیم بنانا چاہیے۔ قومی زبان اور علاقائی زبانیں لسانی و تہذیبی اعتبار سے ایک دوسرے سے بہت قریب ہیں، ان کا ذخیرہ الفاظ مشترک ہے۔ ان کی تہذیبی علامات ایک ہیں، ان کا لسانی و فکری ماخذ ایک ہے، ان کا رسم الخط ایک ہے۔ بحیثیت قوم یہ ہماری خوش قسمتی ہے۔ پھر ایک بات اور ہے، کم و بیش سو سال سے صوبہ سرحد، بلوچستان اور خصوصاً پنجاب میں ابتدائی تعلیم سے لے کر ثانوی اسکولوں تک اردو ذریعہ تعلیم رہی اور ہے اور یہ خود اتنی پرانی اور مستحکم روایت ہے کہ اس سے روگردانی کرنا بحیثیت مجموعی ہمارے قومی مفاد کے خلاف ہوگا۔ اس بات کا مشاہدہ ہم ہر وقت کرتے ہیں کہ قومی زبان اور صوبائی زبان ہر علاقے میں ایک ساتھ بولی اور سمجھی جاتی ہے ، یہ ساتھ ساتھ چل رہی ہیں اور انھیں ساتھ ساتھ ہی چلنا چاہیے۔ ‘‘انھوں نے ایک اور اداریہ یوں تحریر کیا۔ ’’اردو سب زبانوں کی طرح محبت کی زبان ہے۔ اردو کا کوئی جھگڑا کسی علاقائی زبان سے نہیں ہے۔ بلکہ اردو چونکہ سارے پاکستان میں بولی اور سمجھی جاتی ہے، مشترک ذریعہ ابلاغ ہے، ایک علاقہ کے لوگ دوسرے علاقہ کے لوگوں سے اسی زبان میں بات چیت کرتے ہیں، اس لیے یہ ہماری ’’قومی زبان‘‘ ہے اور اسی لیے اسے جلد یا بدیر انگریزی کی جگہ لینی ہے۔ یہ نوشتہ تقدیر، یہ وقت کی ضرورت ہے اور یہ مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا منطقی نتیجہ ہے،اسلیے اس مسئلہ پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے۔ اس زبان کو قومی سطح پر اختیار کرنے ہی سے پاکستان یکجہتی کے گہرے رشتے میں پیوست ہوگا اور پاکستانی قوم اپنے واضح خدوخال کے ساتھ وجود میں آئے گی۔ ‘‘ڈاکٹر جمیل نے ایک اور اہم اداریہ میں لکھا: ’’جہاں تک عربی زبان کا تعلق ہے صدیوں سے قرآن شریف بچوں کو پڑھانا، ماں باپ کی پہلی مذہبی و معاشرتی ذمے داری سمجھی جاتی ہے۔ یہ عمل جاری رکھنا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ اسکولوں میں عربی، فارسی، فرانسیسی اور دوسری زبانوں کو اختیاری مضمون کی حیثیت سے انتظام ہونا چاہیے۔ عربی اور فارسی کا نہ صرف اردو سے بنیادی اور گہرا تعلق ہے بلکہ پاکستان کی ساری چھوٹی بڑی زبانوں سے بھی گہرا اور بنیادی تعلق ہے۔ اس لیے ان دونوں زبانوں کی تاریخ و تہذیب اور روایت کے حوالے سے ہمارے معاشرے کے لیے غیر معمولی اہمیت ہے اور جن زبانوں کا ہماری زبانوں سے یہ رشتہ ہو یا یہ تعلق ہو تو ان کی اہمیت زیادہ ہوجاتی ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر جمیل جالبی نے نیا دور کے اداریہ میں اپنی رائے کا یوں اظہار کیا: ’’ترقی پسند تحریک اور حلقہ اربابِ ذوق دونوں اہم تحریکیں اور اہم رجحانات کی علم بردار تھیں جنہوں نے اردو ادب پر گہرے اثرات مرتب کیے اور بعض اعلیٰ درجہ کی تخلیقات کو وجود بخشا لیکن اب جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہر تحریک اپنا وقت پوا کر کے تاریخ کی جھولی میں جاگرتی ہے۔ انسانی کی طرح ہر تحریک بھی اپنے بچپن، شباب اور بڑھاپے کے دور سے گزرتی ہے۔ ان دونوں تحریکوں نے بھی اہم خدمات انجام دیں لیکن اب وقت ان کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ گیا ہے۔ اب ہمیں اپنے ادراک شعور اور عصری تقاضوں کا جائزہ لے کر نئے سرے سے نئے رجحانات کو دریافت کرنا ہے۔ ‘‘ برسوں پہلے لکھے گئے ان اداریوں کے مطالعہ سے ڈاکٹر جمیل جالبی کی ذہنی وسعت، ادبی معاملات پر گرفت اور واضح سوچ کا اظہار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر خاور جمیل کی قیادت میں نیا دور اور ساقی کے اداریوں کے کتابوں کی شکل میں شائع ہونے سے نوجوان محققین کے لیے کام خاصا آسان ہوگیا ہے۔ نوجوان محققین ان کتابوں کے مطالعے سے سوچ کی نئی راہیں تلاش کرسکتے ہیں۔ اس تاریخی دستاویز کی اشاعت پر ڈاکٹر خاور جمیل، گلناز اور مجید رحمانی قابلِ مبارکباد ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل