Tuesday, May 26, 2026
 

سنتِ ابراہیمی کا احیاء اور 9 ذوالحجہ کا روزہ (آخری حصہ)

 



عید الضحٰی محض ایک روایتی تہوار یا گوشت کھانے کا موقع نہیں ہے بلکہ یہ ایک عظیم تاریخی واقعے کی یادگار اور گہرے روحانی و اخلاقی فلسفے کا امین ہے۔ اس دن مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانی اور اطاعتِ الٰہی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اس عظیم الشان دن کا براہِ راست تعلق جدِّ انبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندگی کے مختلف ادوار میں سخت آزمائشوں میں ڈالا اور وہ ہر آزمائش میں سرخرو ہوئے۔ قربانی ان کی سب آزمائشوں سے بڑی اور بھاری آزمائش تھی جس میں وہ سرخرو ہوئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے خانوادے کی داستانِ حیات محض چند تاریخی واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ عشق، اطاعت اور تسلیم و رضا کا ایک ایسا آفاقی فلسفہ ہے جس نے انسانی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ اس ایمان افروز تذکرے کا آغاز نارِ نمرود کے معرکے سے ہوتا ہے جہاں ایک طرف مادی طاقت کی دہکتی ہوئی آگ تھی اور دوسری طرف خلیل اللہ کا غیر متزلزل ایمان۔ عقل کہتی تھی کہ آگ کا کام جلانا ہے اس لیے پیچھے ہٹ جاؤ، لیکن عشقِ حقیقی کا تقاضا کچھ اور تھا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بے دھڑک اس آگ میں کود پڑے تو اللہ کا فرمان جاری ہوا۔ ’’’ا ے آگ! تو ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا ابراہیم پر۔ ‘‘ یوں وہ ہولناک شعلے ایک دم سرد پڑ کر گلزار بن گئے اور کائنات نے دیکھ لیا کہ جب ایمان کامل ہو تو مادی اسباب ہیچ ہو جاتے ہیں جیسا کہ علامہ اقبال نے کہا تھا: آج بھی ہو جو ابراہیم سا ایماں پیدا آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا آگ کے اس امتحان سے سرخرو ہو کر نکلے تو آزمائشوں کا رخ بدلا اور حکم ملا کہ اپنی شریکِ حیات حضرت ہاجرہ اور معصوم شیرخوار بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی اس بنجر، تپتی اور بے آب و گیاہ وادی میں تنہا چھوڑ آؤ، جہاں دور دور تک زندگی کا نام و نشان نہ تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انسانی اندیشوں پر حکمِ الٰہی کو ترجیح دی اور تعمیلِ ارشاد میں ذرہ برابر تاخیر نہ کی۔ اس موقع پر جب حضرت ہاجرہ کو معلوم ہوا کہ یہ اللہ کا حکم ہے تو انھوں نے تاریخی جملہ کہا کہ:’’تب اللہ ہمیں کبھی ضایع نہیں کرے گا۔‘‘ اسی تپتی دھوپ میں جب بچہ پیاس سے تڑپا تو ممتا بے قرار ہو کر صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان دوڑی۔ ماں کی یہی تڑپ بارگاہِ الٰہی میں ایسی مقبول ہوئی کہ قیامت تک کے لیے حج کا رکن (سعی) بنا دی گئی اور اسی بے قراری کے نتیجے میں معصوم کی ایڑیوں کی رگڑ سے زمزم کا وہ معجزاتی چشمہ پھوٹا جو صدیوں سے جاری ہے۔ امتحانِ عشق کی معراج اس وقت سامنے آئی جب حضرت اسماعیل علیہ السلام تیرہ سال کے ہوئے اور بوڑھے باپ کو خواب میں اپنے اسی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا چونکہ انبیاء کا خواب وحی ہوتا ہے، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صبح اٹھتے ہی اپنے بیٹے سے مشورہ کیا۔ قرآنِ کریم نے اس تاریخ ساز مکالمے کو یوں محفوظ کیا ہے کہ ’’جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا: بیٹا! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، تمہاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا: ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر گزریں، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘ باپ کا بیٹے سے رائے مانگنا کسی ہچکچاہٹ کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس میں یہ حکمت پنہاں تھی کہ بیٹا مجبوری میں نہیں بلکہ اپنی خوشی سے اللہ کی رضا کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ’’ان شاء اللہ‘‘ کہہ کر اور خود کو دیگر صابرین کی صف میں شامل کر کے عاجزی اور اطاعت کی انتہا کر دی۔ جیسے ہی باپ نے بیٹے کی گردن پر چھری رکھی، امتحان مکمل ہو گیا اور خدا کا اعلان ہوا کہ ’’تم نے خواب سچ کر دکھایا۔‘‘ اللہ نے ذبح کے لیے جنت سے دنبہ بھیج کر اس بے مثال قربانی کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ قربانی کا یہ عظیم الشان واقعہ جہاں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بے لوث فدائیت کا مظہر ہے وہیں اس سے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی بھی بے مثال جذبۂ جاں نثاری کی ابدی شہادت ملتی ہے۔ اس واقعے کے گہرے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کم سنی ہی میں اللہ رب العزت نے آپ علیہ السلام کو کیسی حیرت انگیز ذہانت، فہمِ اور علم سے نوازا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ان کے سامنے اپنا خواب بیان کیا تو انھوں نے اللہ کے کسی صریح حکم کا حوالہ نہیں دیا تھا بلکہ محض ایک خواب کا تذکرہ فرمایا تھا لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام اپنی ایمانی فراست سے فوراً سمجھ گئے کہ انبیاء علیہم السلام کا خواب محض کوئی خیال نہیں بلکہ وحیِ الٰہی ہوتا ہے اور یہ خواب بھی درحقیقت حکمِ خداوندی کی ہی ایک شکل ہے۔ چنانچہ انھوں نے جواب میں خواب کے بجائے براہِ راست حکمِ الٰہی کا ذکر کیا اور اپنے والد کو یہ کہہ کر یقین دلایا کہ: ابا جان! جس بات کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس حکیمانہ جواب کی گہرائی اور بلاغت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع نور اللہ مرقدہ نے اپنی مایہ ناز تفسیرمعارف القرآن میں تحریر فرمایا ہے کہ اس ایک جملے میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی غایتِ ادب اور انتہا درجے کی تواضع و انکساری دیکھیے۔ اول تو آپ نے ان شاء اللہ کہہ کر پورے معاملے کو اللہ کی مئشیت کے حوالے کر دیا، جس سے اس وعدے میں اپنی طاقت یا دعوے کی جو ایک ظاہری صورت پیدا ہو سکتی تھی، اسے بالکل ختم فرما دیا۔ دوسرا یہ کہ آپ چاہتے تو یہ بھی فرما سکتے تھے کہ آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے لیکن اس کے بجائے آپ نے کسرِ نفسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ اس اسلوبِ بیان سے آپ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کر دیا کہ یہ صبر و ضبط تنہا میرا کوئی کمال نہیں ہے بلکہ دنیا میں اس سے پہلے بھی بہت سے صبر کرنے والے گزرے ہیں اور ان شاء اللہ میں بھی (اپنے کسی ذاتی دعوے کے بغیر) انھی مخلصین کی جماعت میں شامل ہو جاؤں گا۔ اس طرح آپ نے اس مختصر سے جملے میں فخر و تکبر، خود پسندی اور پندارِ نفس کے ادنیٰ سے شائبے کو بھی یکسر ختم کر کے بندگی کی انتہا درجے کی عاجزی کا اظہار فرمایا۔ اگر ان تمام واقعات کو ایک فکری لڑی میں پرو کر دیکھا جائے تو اس سے قربانی کا حقیقی اور آفاقی فلسفہ نمایاں ہوتا ہے۔ قربانی کا مقصد صرف جانور کا خون بہانا یا گوشت تقسیم کرنا نہیں بلکہ یہ انسان کا اپنے رب سے وفاداری کا دائمی عہد ہے۔ یہ فلسفہ سکھاتا ہے کہ جب اللہ کا حکم آجائے تو انسان کو اپنی جان، مال، اولاد اور نفس کی تمام عزیز ترین محبتوں کو اس کی رضا پر نچھاور کر دینا چاہیے۔ جانور کے گلے پر چھری چلانا دراصل اپنے اندر کے نفسِ امارہ اور تکبر کو ذبح کرنے کی علامت ہے۔ جیسا کہ مولانا محمد یوسف کاندھلویؒ نے فرمایا تھا کہ اسلام جب بھی چمکا ہے قربانیوں سے چمکا ہے۔ ہر سال عید الاضحی کے موقع پر سنتِ ابراہیمی کا احیاء امتِ مسلمہ کے لیے یہی تجدیدِ عہد ہے کہ ہمارا جینا، مرنا اور ہماری قربانیاں صرف اللہ کے لیے ہیں اور جب تک امت میں یہ ابراہیمی جذبہ زندہ رہے گا، وہ دنیا کی کسی آگ یا مشکل سے مغلوب نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ پوری امت میں یہ جذبہِ ایثار پیدا فرمائے۔ آمین

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل