Loading
قارئین جب ان سطور کا مطالعہ کر رہے ہیں تو اس وقت دنیا بھر میں مسلمان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی سنت کو ادا کر رہے ہیں۔ لاکھوں مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا ، عازمین حج اپنے رب کے سامنے گڑ گڑا کر اپنے لیے اپنے خاندانوں کے لیے اور اپنے ملکوں کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔ فرزندان توحید کسی دنیاوی برتری سے بالآتر اپنے رب کے حضور سر بسجود ہیں ۔
ہمارے نبیﷺ نے فرمایا تھا کہ کسی کالے کوگورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی برتری نہیں ہے اور اس کا نمونہ ہم ہر برس حج کے موقع پر دیکھتے ہیں جب محمودو ایاز ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ جو مسلمان حج کی ادائیگی کر رہے ہوتے، ان کے لیے یہ قربانی لازم ہے باقی مسلمانوں کواپنی مالی حیثیت کے مطابق یہ سنت ادا کرنے کی سہولت ہے۔ عید قربان کے اس اہم ترین موقع پر آج کے اخبار کی ایک خبر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان ، سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک سے کہا ہے کہ وہ معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت اختیار کرلیں ، مزید فرمایا کہ سعودیہ اور قطر کو پہل جب کہ پاکستان ، ترکیہ، مصر اور اردن کو ان کی پیروی کرنی چاہیے۔
معاہدہ ابراہیمی کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے موسوم کیا جاتا ہے جن کے پیروکاروں میں مسلمان، عیسائی اور یہودی شامل ہیں یعنی اس معاہدے کا نام اس لیے تجویز کیا گیا کہ تینوں ادیان کے پیرو کاروں کے لیے قابل قبول ہو جائے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ دور حکومت میں اس معاہدے کے خدو خال طے کیے گئے۔ مصر ، اردن، مراکش اور ترکیہ اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں جب کہ متحدہ عرب امارات، بحرین، سلطنت عمان اور سوڈان نے بھی سرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔
آج سے آٹھ دہائیاں قبل عرب اسرائیل جنگ اور بعد کی دو جنگوں نے فلسطین کو عرب دنیا کا مرکزی مسئلہ بنا دیا تھا اور عرب دنیا کا یہ موقف واضح تھا کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات نہیں ہوں گے۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ بعض عرب اور مسلم ملکوں کے تجارتی اور سیاسی مفادات اس اہم مسئلہ پر حاوی ہوگئے اور انھوں نے اسرائیل کے ساتھ جلی و خفی تعلق قائم کر لیا۔ متحدہ عر ب امارات اور بحرین کی جانب سے معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت کا مقصد مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے حالات کو پیش نظر رکھ کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
انھیں محسوس ہوا کہ خطے میں ایرانی رجیم کا بڑھتا اثرو رسوخ ان کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے، اس صورتحال کو امریکا نے اپنے حق میں استعمال کیا ہے اور تمام عرب ممالک کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا، اس کا فائدہ اسرائیل نے بھی اٹھایا۔ ہم نے اس کا مشاہدہ خلیجی جنگ میں دیکھ بھی لیا ہے کہ اس جنگ میں تمام عرب ممالک امریکا کے ساتھ ہیں۔پاکستان اپنے قیام کے بعد سے ہی فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت اور اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی پر قائم چلا آرہا ہے لیکن اب وہ نازک موقع آن پہنچا ہے جب صورتحال نے غیرمعمولی موڑ لیاہے، امریکا اور پاکستان کے تعلقات ان دنوں بہت اچھے ہیں۔ ادھر سعودیہ اور امریکا بھی ایک پیج پر ہیں۔
سعودیہ کے ساتھ پاکستان کا دفاعی معاہدہ بھی موجود ہے ۔ پاکستان ایک ایٹمی ریاست ہے، جسے پوری دنیا تسلیم کرتی ہے ۔ پاکستان میں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ اس خدشے کا اظہار کررہا ہے کہ امریکا تو ایران کے ایٹمی پروگرام کو برداشت نہیں کررہا ہے، وہ پاکستان کے بارے میں اس کے کیا جذبات ہوسکتے ہیں، اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان ایک ایسے دوراہے پر ا کھڑا کیا ہے جس کے ایک طرف عرب ممالک ہیں جن کے ساتھ ہمارے کاروباری روابط ہیں اور ہمارے لاکھوں لوگ وہاں ملازمت کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کرمذہبی عقیدت کا انمٹ رشتہ ہے جب کہ دوسری طرف ایران کے ساتھ مشترکہ سرحد معاملات ہیںاور سب سے اہم پاکستانی عوام فلسطینی عوام کے ساتھ ایک جذباتی اور نظریاتی تعلق رکھتے ہیں اور ایسے میں ابراہیمی معاہدے کی باتیں ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ قطرے کو گوہر بننے تک کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ میری جانب سے قارئین کو عید الاضحی مبارک۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل