Loading
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور اس کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششیں اس وقت عالمی سیاست کا سب سے اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔ دنیا بھر کے سیاسی، سفارتی اور اقتصادی حلقے بے چینی سے اس امر کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا دونوں ممالک کسی ایسے قابلِ عمل معاہدے تک پہنچ پائیں گے جو نہ صرف موجودہ بحران کا خاتمہ کرے بلکہ مستقبل میں کسی بڑے تصادم کے امکانات کو بھی کم کر دے۔
اگرچہ جنگ بندی پر عملدرآمد جاری ہے اور دونوں فریق مختلف تجاویز اور جوابی تجاویز کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم حالات ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے۔ ہر نئے بیان، ہر سفارتی رابطے اور ہر مذاکراتی پیش رفت کے ساتھ صورتحال ایک نیا رخ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری امید اور تشویش کے درمیان معلق نظر آتی ہے۔
اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات کسی ایک واقعے یا چند برسوں کی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط سیاسی اور نظریاتی کشمکش میں پیوست ہیں۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تناؤ، جوہری پروگرام پر اختلافات، مشرقِ وسطیٰ میں اثرورسوخ کی جنگ اور باہمی عدم اعتماد نے اس فاصلے کو مزید گہرا کیا۔ اسی لیے موجودہ مذاکرات کو محض ایک عارضی سفارتی سرگرمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ درحقیقت یہ ایک ایسے تاریخی تنازع کو سلجھانے کی کوشش ہے جس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی نظام پر مرتب ہوتے رہے ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے صورتحال کو مزید دلچسپ اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف وہ ایران کے ساتھ معاہدے کو قریب قرار دیتے ہیں اور اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ تہران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے اور نہ خریدنے کی یقین دہانی کرا چکا ہے، جب کہ دوسری جانب نئی اور سخت تجاویز پیش کیے جانے کی اطلاعات سامنے آتی ہیں۔
اس طرح کے متضاد اشارے سفارتی عمل میں غیر یقینی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ بین الاقوامی مذاکرات میں لچک اور حکمت عملی اپنی جگہ اہم ہوتی ہے، لیکن پالیسی کے بار بار بدلتے ہوئے اشارے اعتماد سازی کے عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جب فریقین کو ایک دوسرے کے ارادوں پر مکمل یقین نہ ہو تو مذاکراتی پیش رفت سست پڑ جاتی ہے اور معاہدے کے امکانات کمزور ہونے لگتے ہیں۔
ایرانی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اسی تناظر میں قابل توجہ ہیں۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا ابھی تک مذاکرات کے حوالے سے سنجیدہ اور مستقل مزاج رویہ اختیار نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق بعض امریکی اقدامات اور بیانات یہ تاثر دیتے ہیں کہ واشنگٹن سفارت کاری کے ساتھ ساتھ دباؤ کی پالیسی کو بھی جاری رکھنا چاہتا ہے۔
تہران کے نزدیک اگر واقعی امن مطلوب ہے تو مذاکرات کو طاقت کی سیاست سے الگ رکھتے ہوئے برابری اور احترام کی بنیاد پر آگے بڑھانا ہوگا۔ یہ مؤقف خواہ کسی حد تک سیاسی مفادات سے متاثر ہو، لیکن اس میں ایک حقیقت ضرور پوشیدہ ہے کہ دیرپا امن کے لیے اعتماد ناگزیر ہوتا ہے اور اعتماد محض بیانات سے نہیں بلکہ مسلسل اور قابلِ پیش گوئی پالیسیوں سے پیدا ہوتا ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق متعدد بحری جہازوں کا دوبارہ اس آبنائے ہرمزسے گزرنا ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ کشیدگی کے باوجود مکمل تعطل کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔ تاہم اس محدود بحالی کو مستقل استحکام قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ جب تک ایک جامع سیاسی سمجھوتہ سامنے نہیں آتا، عالمی منڈیاں غیر یقینی کیفیت کا شکار رہیں گی۔ سرمایہ کار، تیل کی کمپنیاں اور بین الاقوامی تجارتی ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ کسی بھی وقت پیدا ہونے والی نئی کشیدگی عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔
قطر کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اختیار کیا گیا متوازن مؤقف بھی قابلِ غور ہے۔ قطر نے مستقل بنیادوں پر ٹول ٹیکس کے نفاذ کو نامناسب قرار دیتے ہوئے یہ واضح کیا کہ اس کا بوجھ بالآخر عالمی صارفین پر منتقل ہوگا۔ دوسری جانب اس نے یہ گنجائش بھی رکھی کہ اگر مخصوص حفاظتی اقدامات یا تکنیکی ضروریات کے لیے عارضی بنیادوں پر کوئی مالی انتظام درکار ہو تو اس پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ یہ مؤقف دراصل خلیجی ریاستوں کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو کشیدگی کے بجائے عملی حل اور اقتصادی استحکام کو ترجیح دیتی ہیں۔
خلیجی ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور مستقبل کے منصوبے خطے میں امن اور استحکام سے وابستہ ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ نے متعدد جنگوں، خانہ جنگیوں اور سیاسی بحرانوں کا سامنا کیا ہے۔ ان تجربات نے علاقائی قیادت کو یہ احساس دلایا ہے کہ ترقی اور تنازع ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر عرب ممالک ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے خواہاں ہیں اور کسی ایسے حل کی حمایت کرتے ہیں جو تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہے۔ اب اس میں علاقائی سلامتی، بحری راستوں کا تحفظ، اقتصادی پابندیوں کا مستقبل اور خطے میں طاقت کے توازن جیسے معاملات بھی شامل ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں ہوگا۔ فریقین کو متعدد پیچیدہ نکات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔ تاہم مثبت پہلو یہ ہے کہ سفارتی رابطے جاری ہیں اور کسی بھی جانب سے مذاکرات کا دروازہ بند کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ یہی عنصر مستقبل کے لیے امید کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی خصوصی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
پاکستان جغرافیائی اعتبار سے ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکا اور دیگر اہم ممالک کے ساتھ تعلقات موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد ایک متوازن اور تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان نے متعدد مواقع پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔امریکی وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہنا اسی حقیقت کا اظہار ہے۔
اس تناظر میں وہ رپورٹس بھی اہمیت رکھتی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران عالمی سیاست میں متعدد تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ طاقت کے مراکز تبدیل ہو رہے ہیں، نئی اقتصادی شراکت داریاں وجود میں آ رہی ہیں اور علاقائی تعاون کے نئے ماڈل سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی ملک کو مستقل طور پر الگ تھلگ کرنا آسان نہیں رہا۔ پاکستان نے مختلف عالمی اور علاقائی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے یہ ثابت کیا ہے کہ متوازن سفارت کاری آج بھی مؤثر نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کی صلاحیت سے متعلق بیان یہ ظاہر کرتا ہے کہ بحران مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ عسکری طاقت کے اظہار اور سفارتی کوششوں کا بیک وقت جاری رہنا ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کرتا ہے، اگرچہ ریاستیں اپنے دفاعی مفادات کے تحفظ کا حق رکھتی ہیں، لیکن طاقت کے استعمال کی مسلسل دھمکی مذاکراتی ماحول کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ماضی کے تجربات یہ ثابت کرتے ہیں کہ جنگیں شروع کرنا نسبتاً آسان جب کہ انھیں ختم کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اس حقیقت کا کئی بار مشاہدہ کر چکا ہے۔
لہٰذا موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ ضرورت تحمل، مستقل مزاجی اور سیاسی بصیرت کی ہے۔ ایران اور امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عسکری برتری کے دعوے یا سخت بیانات وقتی سیاسی فوائد تو فراہم کر سکتے ہیں، لیکن پائیدار امن کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچیں جو ان کے بنیادی تحفظات کو دور کرے، علاقائی استحکام کو یقینی بنائے اور عالمی برادری کے اعتماد کو بحال کرے۔
دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک راستہ مزید کشیدگی، اقتصادی بے یقینی اور سیاسی محاذ آرائی کی طرف جاتا ہے جب کہ دوسرا راستہ مفاہمت، استحکام اور ترقی کی جانب لے جاتا ہے۔ ایران اور امریکا کے پاس یہ تاریخی موقع موجود ہے کہ وہ ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر ایک نئے باب کا آغاز کریں، اگر دونوں فریق دانش مندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک زیادہ محفوظ، مستحکم اور پرامن مستقبل کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ یہی وہ توقع ہے جس پر آج عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں اور یہی وہ مقصد ہے جس کے حصول کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل