Loading
ایف بی آر نے ریونیو بڑھانے کیلیے آڈٹ کے نظام میں اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ہائی رسک ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کیسوں کا انتخاب مرکزی سطح پر کیا جائے گا جبکہ مقامی دفاتر کی کارکردگی کی ماہانہ نگرانی بھی کی جائے گی۔
آئی ایم ایف کو بھجوائی گئی تازہ دستاویزات کے مطابق ایف بی آر آڈٹ کے موجودہ نظام کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے کمپلائنس رسک مینجمنٹ (سی آر ایم) سسٹم کے ذریعے آڈٹ کیسوں کی نشاندہی اور نگرانی کرے گا۔
اس مقصد کے لیے اگست 2026 تک آڈٹ کیسوں کے انتخاب کے عمل کو مرکزی سطح پر منتقل کیا جائے گا تاکہ ملک بھر میں ٹیکس دہندگان کے ساتھ یکساں اور منصفانہ سلوک کو یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب حکومت نے درمیانی مدت کی ٹیکس اصلاحاتی حکمت عملی (میڈیم ٹرم ٹیکس ریفارم اسٹریٹیجی) کی تیاری پر بھی کام تیز کر دیا ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل