Loading
پندرہوی ںصدی عیسوی میں مسلمان ‘ سپین سے نکالے جا چکے تھے ۔ اکثریت قتل کر دی گئی تھی یا غلام بنا دی گئی تھی۔ مسلمانوں کے دور اقتدار میں بحیرہ روم پر مکمل طور پر پرتگالیوں اور سپین کے بحری بیڑوں کا راج تھا۔ تلخ حقیقت کو اس وقت کے حالات کے مطابق بدلنا ناممکن تھا۔ آبنائے جبرالٹر پر مسلمانوں کا وجود تک ختم ہو چکا تھا ۔ حالات اس قدر مخدوش تھے کہ 1415ء میں پرتگالیوں نے Cuetaشہر پر قبضہ کیا ۔ ساتھ ہی ساتھ Asilaاور پینجر پر قابض ہو چکے تھے۔
دولت لوٹنا توخیر ایک طرف‘ ہزاروں مسلمانوں کو غلام بنا دیا گیا تھا۔ بحری تجارت پر مکمل غلبہ پرتگالیوں اور سپین سے تعلق رکھنے والے بحری بیڑوں کا تھا۔ بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کی تمام تجارتی بندرگاہیں غیر مسلموں کے تسلط میں آ چکی تھیں۔اس دور پر آشوب میں ایک لڑکی السیدہ الہورہ بجلی بن کر مخالفین پر برسی اور ظلم کے خلاف ایک استعارہ بن گئی۔ یہ وہ ملکہ تھی جسے تاریخ کے اوراق میں اس کا جائز مقام کبھی حاصل نہیں ہو سکا۔ 1485ء عیسوی میں اسپین کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئی۔ اس خاندان کا نام بنو راشد تھا ۔ جو مسلمان سلاطین اور دربار سے گہری نسبت رکھتا تھا۔
اندرونی رقابتوں اور لڑائیوں نے اندلس میں مسلمانوں کو خاک میں تبدیل کر دیا۔ بنو راشد کا پورا خاندان ‘ ہجرت کر کے شمالی افریقہ جانے پر مجبور ہو گیا۔ ایک بچی کے طور پر الہورہ کو وہ تمام مظالم یاد تھے جو مسلمانوں پر مفتوح ہونے کے بعد کیے گئے۔ مگر شومئی قسمت کہ اندلس کے زوال کا بدلہ لینے والا کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ الہورہ کے والد نے شمالی مراکش منتقل ہونے کے بعد ساحلی علاقے میں معمولی سا شہر آباد کیا۔جس کا نام Chefchaouenتھا۔ یہ شہر اسپین اور پرتگال کے بادشاہوں کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے مہاجرین کی پناہ گاہ میں تبدیل ہو گیا۔ یہاں اہم نقطہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ جو مظالم مسلمانوں کے درپے ہوئے ‘ ویسے ہی یہودی خاندانوں پر بھی برپا کیے گئے۔
چنانچہ شف شاین میں یہودی خاندان بھی آباد ہوتے چلے گئے۔ السیدہ کو اپنے وقت کی بہترین تعلیم و تربیت دی گئی۔ جس میں حکومت کرنے کے آداب ‘ اصول رہنمائی ‘ سیاست کی پیچیدگیاں اور گفت و شنید کے تمام اصول شامل تھے۔ 1510ء میں الہورہ کی شادی ابوالحسن المندری سے کی گئی جو مراکش کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ شادی کے بعد tetouanشہر میں منتقل ہو گئیں اور خاوند کے ہمرا ہ اس شہر پر حکومت کرنے لگیں۔ المندری کے انتقال کے بعد شہر کی گورنر مقرر ہوئیں ۔ کسی ایک مذہبی عالم یا رہنما نے یہ کہہ کر ان کی حکومت کو رد نہیں کیا کہ وہ ایک خاتون ہے۔ اگر آپ اس زمانے کے نسخوں کو پڑھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ الہورہ حد درجہ بہادر ‘ طاقتور ‘ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور لائق حکمران کے طور پر جانی جاتی تھی۔
مگر طیطوان کی مضبوط حکومت السیدہ الہورہ کا اصل تعارف نہیں ہے۔ مسلمانوں کے پاس کسی قسم کے جنگی بحری جہاز نہیں تھے ۔ یہ غیر معمولی کام الہورہ نے انجام دیا۔لیاقت اور ترجیح کا کمال دیکھیں کہ اس نے ہسپانوی اور پرتگالی بحری جہازوں پر اسٹڈی کی ۔ نقشے ازبر کیے ، ان کی کمزوریاں جانیں، اس محنت کے بعد چھوٹے جنگی جہاز بنوانے شروع کر دیئے ۔ جن میں توپیں بھی کافی کم لگی ہوتی تھیں۔ دیکھنے میں یہ ایک معمولی سا کام لگتا ہے۔ ان جنگی جہازوں میں گولہ بارود رکھنے کی بھی زیادہ گنجائش نہیں تھی۔ مگر الہورہ نے توجہ بحری جہازوں کی رفتار اور تیزی سے مڑنے کی استطاعت پر رکھی تھی۔ ایک انقلابی تکنیک کے ذریعے یہ جہاز ہوا کے زور کے مخالف بھی چل سکتے تھے۔
حددرجہ نازک نقطہ یہ ہے کہ پورے جہاز میں چپو چلانے والے ملاح غلام نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ بھی عام سپاہیوں کی طرح ہتھیاروں کے ساتھ دشمنوں سے برسرپیکار رہتے تھے۔ اس زمانے کے اعتبار سے جب ہسپانوی اور پرتگالی بحری جہازوں میں ان گنت غلام چپو چلاتے تھے ۔الہورہ کا یہ قدم حد درجہ اہم تھا۔الہورہ کے نئے تجربے نے کمال کر دیا۔ مسلمانوں کے چھوٹے جنگی جہاز ‘ بھرپور رفتار سے بہت بڑے اور مہیب جنگی جہازوں پر حملہ کرتے تھے۔ان کو قلیل مدت میں تباہ کر کے واپس چلے جاتے تھے۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں سیدہ نے پورے بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس پر قبضہ کر لیا ۔ مسلمانوں کا بحری بیڑا جو کہ دراصل الہورہ کا تیار کردہ تھا وسیع سمندر پر حکومت کرتا رہا۔ اسی اثنا ء میں ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد مراکش کے سلطان محمد البتاسی نے ان سے شادی کی ۔تاریخ کے اوراق میں یہ بھی درج ہے کہ سلطان اس شادی کے لیے دارالحکومت ‘ فیض ‘ سے سفر کر کے طیطوان بذات خود تشریف لائے۔
سیدہ شادی کے بعد اپنے آبائی شہر میں رہیں اور وہیں حکومت کی ۔ مغربی یورپ کے لیے یہ شادی حد درجہ تباہ کن ثابت ہوئی۔ سلطان کی طاقت اور الہورہ کی ذہانت نے پورے مراکش اور آبی ذخائر کے ساتھ بسے ہوئے شہروں کو مسلمانوں کے لیے پرامن بنا دیا۔ آپ حیران ہوں گے کہ انگلستان بھی اپنی پوری عسکری اور بحری قوت کے ساتھ ان ساحلی شہروں پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ مگر سیدہ کے چھوٹے سے تیز رفتار بحری بیڑے نے ساری مغربی طاقتو ں کے گھٹنے زمین پر لگا دیئے۔
اس کی طاقت کا اندازہ لگائیں کہ اندلس اور پرتگال کے بادشاہ قیمتی تحائف بھیجتے تھے تاکہ ان کے بحری بیڑے آزادانہ تجارت کرسکیں۔الہورہ کا اصول تھا کہ وہ مغربی طاقتوں کے زیر اثر ان تمام مسلمانوں کو آزاد کرواتی تھی جنھیں انھوں نے غلام بنا رکھا ہے۔ ہسپانوی ‘ پرتگالی اور انگریز مجبور ہو چکے تھے کہ الہورہ کو خراج دیتے رہیں۔یاد رہے کہ مراکش کے پاس کوئی بحری قوت موجود نہیں تھی۔ پورے ملک اور ساحلی علاقوں کی حفاظت سیدہ کے بحری بیڑے کرتے تھے۔
سوچنے کی بات ہے کہ السیدہ الہورہ کو مسلمانوں کی تاریخ میں وہ مقام کیوں نہیں دیا گیا جو اس کا حق تھا؟ جو عسکری اور بحری کارنامے مراکش کی حکومت اور سلطان نہ کر پائے وہ سارا ناممکن کام اس بہادر ملکہ نے تن تنہا سرانجام دیا۔اس کے ساتھ ساتھ وہ مراکش کے شاہی خاندان کی حفاظت کا کام بھی کرتی رہیں۔ سیدہ کے خلاف ان کے داماد نے سازش کی اور تخت پر قبضہ کر لیا ۔ان کا آخری دور عبادت اور مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے گزرا۔
شمالی افریقہ کے تین مسلمان ممالک میں طالب علم کو جانے کا بارہا موقع ملا جن میں الجزائز‘ مراکش اورتیونس شامل ہیں۔ ان ممالک میں ایک ایسی خاصیت ہے جو دیگر کسی مسلمان ملک میں دیکھنے کو نہیں ملتی ۔ ان ریاستوں کی خواتین ‘ اکثریتی طور پر مغربی لباس زیب تن کیے نظر آتی ہیں۔ وہ سرکاری اور غیر سرکاری‘ تمام کاروبار زندگی میں مردوں کے برابر کام کرتی ہیں۔جو اعتماد ‘ مسلم خواتین میں وہاں نظر آتا ہے وہ دنیا میں کسی بھی جگہ مفقود ہے ۔
منفی انداز سے بات نہیں کر رہا ۔ لباس ایک ذاتی حیثیت کا حامل ہے ۔ اس پر کسی بھی مذہب کی کوئی چھاپ نہیں ہوتی ۔ مگر اس کے بلکہ متضاد برصغیر میں خواتین کے متعلق ایک ایسی مذہبی فکر کو ترویج دینے کی کوشش کی گئی ہے جس میں عورت کا مقصد اولاد پیدا کرنا اور گھر کی چار دیواری تک محدود ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ پچاس فیصد آبادی کو کس طرح فکری طور پر سماج کا مثبت حصہ بننے سے روکا جا سکتا ہے۔ برطانوی سامراج سے پہلے مغل درباروں میں ملکاؤں کے احکامات کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں ۔امور سلطنت میں ان کی شمولیت صاف دکھائی دیتی تھی۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ انگریزدور میں قائم ہونے والے ابتدائی دینی مدارس کو عورتوں کے حوالے سے ایک سخت گیر موقف لے کر سامنے آنے دیا گیا۔
طالب علم کی حیثیت سے عرض کرنے کی جرأت کر رہا ہوں کہ مدارس میں ایک مخصوص نظام تعلیم کو نافذ کیا گیا جس میں عورت کو مرد کے مقابلے پر ایک پست مخلوق گردانا گیا ۔ اس کا برملا اظہار تو کہیں نہیں ہے مگر عورت کے رول کو محدود سے محدود تک کردیا گیا۔ مذہبی سیاسی جماعتیں آج بھی انھی نظریات پر کاربند نظر آتی ہیں۔
اپنے ملک کی بات کرتا ہوں تو اس میں متضاد قسم کے رویے نظر آتے ہیں ۔ آج کے دور میں ہماری خواتین ‘ بھرپور طریقے سے مرد کے شانہ بشانہ کاروبار زندگی میں مصروف ہیں ۔ جنگی جہاز اڑانے سے لے کر دل کے پیچیدہ ترین آپریشن کرنے میں آپ کو خواتین نظر آئیں گی۔ مگر ساتھ ہی ساتھ ایک ایسا بااثر طبقہ موجود ہے جو خواتین پر زندگی کے تمام دروازے بندکرنے کی حمایت کرتا ہے ۔
افغانستان کا حال دیکھئے جس میں طالبان کی ناجائز حکومت نے ‘ عورتوں کو جانوروں کی سطح پر سانس لینے پر مجبور کر دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ آج سے سات سو سال پہلے ہماری تاریخ میں عورتوں کی بہادری اور جرأت بلکہ حق حکمرانی کے ثبوت موجود ہیں۔ مگر ہم اس نازک معاملے پر بات کرتے ہوئے گھبراتے ہیں۔ آج بھی السیدہ الہورہ کی طرح کی خواتین موجود ہیں جو کسی بھی معاشرے کے لیے باعث افتخار بن سکتی ہیں! انھیں بھرپور موقع دیجیے۔یہی وقت کا تقاضہ ہے!
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل