Loading
مصنوعی ذہانت (AI) اب محض تحقیقاتی اداروں یا ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدودتصور نہیں رہی، بلکہ یہ عالمی معیشت اور لیبر مارکیٹ کو تیزی سے تبدیل کرنے والی طاقتور حقیقت بن چکی ہے۔
اینتھروپک کے کلاڈ ماڈلز، اوپن اے آئی ودیگرکمپنیوں کی حالیہ پیش رفت نے یہ خدشات بڑھادیے ہیں کہ دنیا بھرمیں لاکھوں ابتدائی اورریموٹ وائٹ کالر ملازمتیں بتدریج نہیں، بلکہ ساختی طور پر ختم ہوسکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت اب صرف فیکٹریوں یا کم مہارت والے کاموں تک محدودنہیں رہی، بلکہ کسٹمر سپورٹ، انتظامی امور، اکاؤنٹنگ، ٹرانسکرپشن، رپورٹ نویسی، سافٹ ویئر معاونت، ڈیٹاپروسیسنگ اور معمول کے تجزیاتی کام بھی انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے، یہی وہ شعبے ہیں جنہوں نے گزشتہ دودہائیوں میں عالمی آؤٹ سورسنگ صنعت کی بنیادرکھی۔
پاکستان میں آؤٹ سورسنگ اور آئی ٹی خدمات ملکی برآمدات اور نوجوانوں کے روزگارکاایک اہم ذریعہ بن چکی ہیں، مالی سال 2024-25 میں کال سینٹرز اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ سے 328 ملین ڈالرکی برآمدی آمدن حاصل ہوئی،جبکہ مجموعی آئی ٹی اور آئی ٹی سے وابستہ خدمات کی برآمدات 3 ارب ڈالر سے تجاوزکرگئیں،ملک بھر میں ہزارسے زائد رجسٹرڈکال سینٹرز اورسیکڑوں چھوٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیاں غیر ملکی گاہکوں کو خدمات فراہم کررہی ہیں۔
دس لاکھ پاکستانی فری لانسرز عالمی منڈی میں خدمات انجام دے رہے ہیں،جن میں اکثریت 30 سال سے کم عمر افرادکی ہے۔
ماہرین کاکہناہے کہ پاکستان کی آؤٹ سورسنگ صنعت کم لاگت اور انگریزی جاننے والی افرادی قوت کی وجہ سے ترقی کرسکی، تاہم جدید اے آئی سسٹمز اس برتری کوچیلنج کررہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل ایجنٹس اب کسٹمر شکایات نمٹانے، دستاویزات کی پروسیسنگ،اسپریڈشیٹس کے تجزیے اورکوڈنگ میں معاونت جیسے کام کم انسانی نگرانی کے ساتھ انجام دے سکتے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں ہر سال لاکھوں گریجویٹس روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں،جبکہ مینوفیکچرنگ، تعمیرات اورسرکاری ملازمتوں میں مواقع محدودہیں، بیرون ملک روزگارکے امکانات بھی خلیجی ممالک میں مقامی افرادی قوت کو ترجیح دینے اور امیگریشن پالیسیوں کے باعث سکڑرہے ہیں۔
ماہرین خبردارکرتے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت عالمی سطح پر آؤٹ سورسنگ کی طلب کم کردیتی ہے، تو پاکستان کو نوجوانوں کی بے روزگاری،کمزورمعاشی سرگرمیوں اورزرمبادلہ کی آمدمیں کمی جیسے مسائل کاسامناکرناپڑسکتاہے،چونکہ آئی ٹی برآمدات کم درآمدی لاگت کے ساتھ قیمتی ڈالرزفراہم کرتی ہیں، اس لیے اس شعبے میں سست روی ملکی معیشت پر بھی اثر اندازہوسکتی ہے۔
ماہرین کاکہناہے کہ یہ بحران نئے مواقع بھی پیداکرسکتاہے،مصنوعی ذہانت کے نظاموں کی نگرانی، تربیت، آڈٹنگ،سائبرسیکیورٹی،کلاؤڈانفراسٹرکچر، ڈیٹاانجینئرنگ اور اے آئی کمپلائنس جیسے شعبوں میں طلب بڑھ رہی ہے۔
اس مقصدکیلیے پاکستان کو تعلیمی نظام اور تربیتی پروگراموں میں اصلاحات کرتے ہوئے جدیدکمپیوٹنگ،ڈیٹاسائنس، مصنوعی ذہانت اور خصوصی تکنیکی مہارتوں پر توجہ دیناہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل