Loading
موٹروے گینگ ریپ کیس میں مجرمان کی سزائیں برقرار رکھنے کے حوالے سے پراسکیوٹر جنرل پنجاب فرہاد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب پنجاب محفوظ ہے، کوئی نہیں کہے گا کہ خاتون رات کو موٹروے پر لینے کیا آئی تھی۔
فرہاد علی شاہ نے کہا کہ سیالکوٹ موٹروے پر خاتون کو پٹرول ختم ہونے پر بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، اس واقعے کو ساری دنیا نے ہائی لائٹ کیا تھا، اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا ریاستی اداروں کے لیے ایک چیلنج تھا۔
ایک شہری کی ون فائیو کال پر پولیس نے کارروائی کی، متاثرہ خاتون نے ملزمان کے حلیے بتائے، جس پر فرانزک ٹیموں نے کام شروع کیا، عابد ملہی کا ڈی این اے موقع سے اکٹھے کیے گئے شواہد سے میچ کر گیا تھا، دوسرا ملزم شفقت بگا تھا، جسے سی ڈی آر ریکارڈ کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
فرہاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ کا اس سارے کیس میں کردار بہت اہم تھا، پراسکیوشن نے اس کیس میں دن رات محنت کرکے ملزمان کو سزائیں دلوائیں، پراسکیوشن نے اس کیس میں ہائیکورٹ سے بھی ملزمان کی سزائیں برقرار رکھوائیں، اب پنجاب محفوظ ہے، کوئی نہیں کہے گا کہ خاتون رات کو موٹروے پر لینے کیا آئی تھی۔
پراسکیوٹر جنرل پنجاب نے کہا کہ اس کیس میں پہلی کال ایک شہری نے کی تھی، بطور شہری ہمیں اپنا فرض نبھانا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل