Thursday, June 04, 2026
 

سندھ ہائی کورٹ؛ 80 کی دہائی کے مالیاتی فراڈ کیس میں 9 ملزمان کی سزائیں برقرار

 



سندھ ہائی کورٹ نے 1980 کی دہائی کے بڑے مالیاتی فراڈ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 9 ملزمان کی سزائیں برقرار رکھنے کا حکم دے دیا جبکہ وفات پا جانے والے 7 ملزمان کی سزائیں ختم کر دیں۔ عدالت نے مرحوم ملزمان کی جائیدادوں کی ضبطگی کے احکامات برقرار رکھے ہیں، جبکہ 4 ملزمان کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کر دیا گیا۔ جسٹس خالد حسین شاہانی کی سربراہی میں عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اسلامی کاروبار کے نام پر منظم مالیاتی فراڈ کے ذریعے عوام کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر سید خرم کمال نے عدالت کو بتایا کہ فراڈ کی بنیاد 1979 اور 1980 کے دوران رکھی گئی تھی اور تقریباً 50 ہزار افراد نے اپنی جمع پونجی اس اسکیم میں لگا دی تھی۔ نیب کے مطابق 1987 میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے نگرانی سخت کیے جانے کے بعد ملزمان نے ایک نجی کمپنی قائم کی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ عوام سے حاصل کی گئی رقوم سے 32 ذیلی کمپنیاں بنائی گئیں جبکہ خاندان کے افراد اور ملازمین کے ناموں پر درجنوں جائیدادیں بھی خریدی گئیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 1989 میں آفیشل اسائنی کو بطور لیکویڈیٹر مقرر کیا تھا اور اس کے پاس 3 ارب 64 کروڑ 99 لاکھ روپے مالیت کے 49 ہزار 139 دعوے جمع ہوئے۔ نیب نے تحقیقات مکمل کرنے کے بعد 2003 میں ریفرنس دائر کیا تھا، جبکہ احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف 2007 اور 2012 میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔ عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ احتساب قانون کے تحت جرم سے حاصل ہونے والی جائیداد کی ضبطگی ملزم کی وفات سے ختم نہیں ہو سکتی۔ عدالت کے مطابق اگر وفات کے بعد ضبطگی ختم کر دی جائے تو ہزاروں متاثرہ سرمایہ کار اپنے حقوق سے محروم ہو جائیں گے۔ سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ آفیشل اسائنی اثاثوں کی نگرانی، ریکوری، فروخت اور سرمایہ کاروں میں تقسیم کا عمل جاری رکھے، جبکہ نیب اور دیگر ادارے اثاثوں کی تلاش اور ریکوری میں مکمل معاونت فراہم کریں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل