Loading
کبھی دوا اور جسم کا تعلق نسبتاً سادہ تھا۔ دوا کی ایک خوراک لی گئی، جسم نے اسے جذب کیا، اس کے اجزاء کو توڑا، اس کے اثرات ظاہر ہوئے اور پھر وہ جسم سے نکل ہوگئی۔ سر میں درد ہوا، پیراسیٹامول لی، درد کم ہوا اور معاملہ ختم۔
یہ کیمیائی ادویات کا دور تھا۔ ہم دوا کو ایک کیمیکل کے طور پر دیکھتے تھے۔ ہمارے سوالات یہ ہوتے تھے کہ اس دوا کا کیمیکل کتنا خالص ہے، اس کی طاقت کتنی ہے، بائیو اویلیبلٹی کیا ہے، شیلف لائف کیا ہے اور مضر اثرات کیا ہیں؟
دوا ایک ’شے‘ تھی جس کا جسم پر ایک مخصوص اثر ہوتا تھا۔ لیکن اب علم الادویہ و طب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ آج کی بعض جدید ادویات صرف کیمیائی مادے نہیں بلکہ حیاتیاتی معلومات بھی اپنے ساتھ لے کر آتی ہیں۔ یہ جسم کے اندر جا کر خلیات، جینز اور حیاتیاتی نظاموں کے ساتھ اس سطح پر تعامل کرتی ہیں جس کا چند دہائیاں پہلے تصور بھی نہ تھا۔
سیل تھراپی میں مریض کے اپنے خلیات کو لیبارٹری میں تبدیل یا تربیت دے کر دوبارہ جسم میں داخل کیا جاتا ہے تاکہ وہ سرطان جیسے امراض کے خلاف مؤثر کارروائی کرسکیں۔ جین تھراپی میں خراب یا غیر فعال جین کی اصلاح یا متبادل جین کی فراہمی کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایم آر این اے ویکسین جسم کو ایک مخصوص پروٹین بنانے کی ہدایت دیتی ہیں تاکہ اسی جسم کا مدافعتی نظام اس کے خلاف دفاع تیار کر سکے۔ یہاں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ علاج اب صرف کیمیائی تعامل نہیں رہا بلکہ معلوماتی تعامل بنتا جا رہا ہے۔ گویا علم الادویہ بتدریج ’’کیمیکل میڈیسن‘‘ سے ’’پروگرام ایبل بائیولوجی‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے۔
اس تبدیلی کی رفتار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب سائنس دان صرف جینز کو پڑھ نہیں رہے بلکہ ان میں ترمیم بھی کر رہے ہیں۔ CRISPR جیسی جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجیز مخصوص جینیاتی تبدیلیوں کی صلاحیت فراہم کر رہی ہیں۔ سینتھیٹک بائیولوجی ایسے حیاتیاتی نظام تشکیل دینے کی کوشش کر رہی ہے جو مخصوص حالات میں مخصوص ردِعمل دے سکیں۔ بعض محققین تو خلیے کو ایک ’’بائیولوجیکل کمپیوٹر‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں جو معلومات وصول کرتا، ان پر عمل کرتا اور جواب پیدا کرتا ہے۔ لیکن جتنی بڑی صلاحیت، اتنے ہی بڑے سوالات ابھرتے ہیں۔
اگر کسی حیاتیاتی پروگرام میں غیر متوقع خرابی پیدا ہوجائے تو کیا اسے واپس بند کیا جاسکتا ہے؟ اگر پروگرام مطلوبہ ہدف کے علاوہ دوسرے خلیات پر بھی اثر انداز ہو تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ اگر علاج کئی سال تک جسم میں فعال رہے تو اس کی نگرانی کیسے کی جائے گی؟ اور اگر جسم خود وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہے تو یہ حیاتیاتی پروگرام اس تبدیلی کے ساتھ کس حد تک مطابقت پیدا کرے گا؟
کیمیائی ادویات کے دور میں خطرات کا اندازہ نسبتاً آسان تھا۔ خوراک بند ہوئی تو اثرات بھی عموماً ختم ہو گئے۔ لیکن بعض جدید حیاتیاتی علاج ایسے ہیں جن کے اثرات مہینوں، برسوں یا ممکنہ طور پر پوری زندگی تک باقی رہ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ریگولیٹرز اب ’’لانگ ٹرم فالو اپ‘‘ اور ’’ریئل ورلڈ ایویڈنس‘‘ پر پہلے سے کہیں زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔
یہاں ایک اور دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایک دوا دراصل ایک حیاتیاتی پروگرام ہے تو کیا اس کی منظوری صرف ایک مرتبہ دی جا سکتی ہے یا اس کی مسلسل نگرانی ضروری ہوگی؟ روایتی ادویات کے برعکس بعض جدید بائیولوجیکل مصنوعات وقت کے ساتھ نئی معلومات پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے مستقبل کا ریگولیٹری نظام شاید صرف منظوری دینے والا نظام نہیں رہے گا بلکہ ایک مسلسل سیکھنے اور نگرانی کرنے والا نظام بن جائے گا۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ادارے، قوانین اور فکری سانچے ابھی تک بڑی حد تک بیسویں صدی کے کیمیائی ماڈل پر قائم ہیں۔ ہم اب بھی دوا کو ایک جامد شے سمجھ کر اس کی جانچ کرتے ہیں جبکہ نئی حیاتیاتی ٹیکنالوجیز ایک متحرک نظام کے طور پر کام کرتی ہیں۔ ان کے لیے صرف کیمیائی معیار کافی نہیں بلکہ نظامی، معلوماتی اور طویل المدتی تجزیہ بھی درکار ہے۔
شاید مستقبل میں ریگولیشن کا بنیادی سوال یہ نہیں ہوگا کہ یہ دوا محفوظ ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ ہوگا کہ یہ حیاتیاتی پروگرام کس حد تک قابلِ پیش گوئی، قابلِ نگرانی اور قابلِ کنٹرول ہے؟ آنے والی دہائیوں میں علم الادویہ، طب، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور حیاتیات کے درمیان فاصلے مزید کم ہوں گے۔ جس طرح گزشتہ صدی مشینوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدی تھی، ممکن ہے آنے والی صدی حیاتیاتی پروگرامنگ کی صدی ثابت ہو۔ یہ صرف سائنس کا نیا باب نہیں بلکہ انسانی جسم کو سمجھنے، اس میں مداخلت کرنے اور اس کی حفاظت کے تصور میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ یہ تبدیلی آئے گی یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری سوچ، ہمارے ادارے اور ہمارے قوانین اس کے لیے بروقت تیار ہوسکیں گے؟
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل