Thursday, June 04, 2026
 

بدلتا موسم اور بیماریاں، ذمے دار ہم خود ہیں

 



سردیوں کے آغاز سے پہلے ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ہر طرف بیماریاں پھیلنا شروع ہوجاتی ہیں؟ جسے سب وائرل کا نام دے رہے ہوتے ہیں۔ کبھی اس کی وجہ جاننے کی کوشش کی ہے؟ آج سے 10 سال پیچھے جائیں تو کیا سردیوں کا آغاز اتنی بیماریوں کے ساتھ ہی ہوتا تھا؟ یا اب یہ وائرل زیادہ ہونے لگا ہے؟ کیا موسم بدلنا انسانی صحت پر اتنا گراں گزرتا ہے؟ نہیں!  موسم بدلنا ایک قدرتی امر ہے جو صحت کو متاثر کیے بغیر بھی بدل جایا کرتا تھا۔ لیکن اب یہ موسم بدلنا انسان سے پورا خراج وصول کرتا ہے۔ کبھی سوچا ہے ایسا کیوں؟ آئیے وجہ جانتے ہیں۔ سردیوں کی آمد سے پہلے فضا میں دھند (اسموگ) کا ہونا ایک قدرتی عمل ہے، جس سے فضا میں گرمائش ہوتی ہے اور اچانک سردی بڑھنے سے بیک وقت سرد اور گرم فضا کے ملنے سے دھند سی ہوجاتی ہے۔ کھلے میدانی علاقوں میں اس کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ جہاں سبزہ زیادہ ہو تو مکمل سورج نکلنے تک دھند اپنی جگہ نہیں چھوڑتی۔ یہ عمل ایک دو دن نہیں بلکہ کچھ ماہ تک رہتا ہے۔ جب اس دھند میں گاڑیوں کے سائلنسر، فیکٹریوں کی چمنیوں اور بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ایندھن کے زائد استعمال کی وجہ سے خارج ہونے والا دھواں بھی فضا میں شامل ہوجاتا ہے تو جو صاف فضا تھی وہ دھند اور دھوئیں کی وجہ سے آلودہ ہوجاتی ہے۔ دھند ایک قدرتی عمل ہے جس کو روکا نہیں جاسکتا اور نہ ہی انسان اس سے بیمار پڑتا ہے، لیکن اسی فضامیں دھوئیں کی ملاوٹ اسے انتہائی آلودہ کردیتی ہے۔ جس کی وجہ سے انسان بیمار پڑتا ہے اور ٹریفک حادثات جنم لیتے ہیں۔ اس فضائی آلودگی سے انسان حلق اور ناک میں الرجی، جلد میں سوزش، آنکھوں میں سوزش، سانس لینے میں مشکل اور سر چکرانا جیسی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ دھند کا سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں جانے سے دمہ اور برونکائٹس کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان دنیا بھر کے آلودہ ترین ممالک میں تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ اس آلودگی میں غیرمعمولی اضافہ 2016 سے دیکھا گیا ہے۔ اس کا مطلب پاکستان میں بڑھتی ہوئی آلودگی تیز رفتار شہری اور صنعتی توسیع کا ماحولیاتی نتیجہ ہے جو مناسب ماحولیاتی ریگولیشن اور جدید ایندھن کے معیار کو اپنائے بغیر حاصل کی گئی ہے۔ پاکستان میں آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر لاہور، دوسرے پر فیصل آباد اور تیسرے نمبر پر کراچی کا شمار ہوتا ہے۔ پاکستان میں فضائی آلودگی میں اضافہ گزشتہ دس سال میں تشویشناک حد تک بڑھا ہے، جس کی مختلف وجوہات ہیں۔ اس کی روک تھام ازحد ضروری ہے، جس کی وسیع پیمانے پر ذمے داری ماحول بچاؤ ادارہ جات اور اس کے بعد عوام پر لاگو ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں لوگ اپنی زیرِاستعمال گاڑی (کار، موٹر سائیکل، جیپ، ٹرک، بس، ویگن، سوزکی وغیرہ) کا انجن اور سائلنسر درست حالت میں رکھیں۔ جو پٹرول (جعلی، اسمگل شدہ) زیادہ دھواں دیتا ہے وہ ہرگز استعمال نہیں کریں، گاڑی کی وقتاً فوقتاً ٹیوننگ کرواتے رہیں، گاڑی اشد ضرورت کے وقت استعمال کریں تاکہ جتنا کم گاڑی کا استعمال ہوگا فضا میں کم سے کم دھواں شامل ہوگا، جس سے آلودہ دھند کی شدت میں کمی آئے گی۔ کم فاصلہ پیدل یا سائیکل پر طے کریں۔ شجرکاری جیسی سرگرمیوں کو فروغ دیں۔ ماحول بچاؤ ادارہ جات کو چاہیے فیکٹریوں کو پابند کریں کہ وہ ایسی چمنی لگائیں جو دھویں سے مضر اثرات ختم کرکے فضا میں خارج کرے، اپنی مشینری درست حالت میں رکھیں، اینٹوں کے بھٹے میں زگ زیگ ٹیکنالوجی استعمال کریں، جس سے ایندھن بیس فیصد کم خرچ ہوتا ہے اور چھوٹے ذرات، کاربن کا اخراج بھی بالترتیب چالیس اور ساٹھ فیصد کم ہوتا ہے۔ اس طرح فضائی آلودگی میں واضح کمی آسکتی ہے اور نتیجتاً دھند کی شدت میں بھی کمی واقع ہوگی۔ آلودہ دھند میں اپنی مدد آپ کے تحت بچنے کی کوشش کریں۔ علی الصبح اور رات میں غیر ضروری گھر سے نہ نکلیں، چہرے پر کپڑے کا ماسک استعمال کریں، باہر نکلتے ہوئے آنکھوں پر کوئی مناسب چشمہ لگائیں۔ گھر آکر ہاتھ، پیر اور منہ دھوئیں اور آنکھوں میں پانی کے چھپاکے ماریں۔ طویل سفر کوشش کریں کہ سورج کی روشنی میں طے کریں، بڑی شاہراہوں میں صبح سویرے اور شام کے اوقات میں گاڑی کی فل لائٹ جلائیں، تیز رفتاری سے پرہیز کریں اور سامنے سے آتی گاڑی دیکھ کر خبردار کرنے کےلیے اپنی گاڑی کا ہارن بجائیں۔ یاد رکھیے! موسم کی تبدیلی قدرتی امر ہے لیکن اس میں انسانی نظام کے بگاڑ کے باعث جو آلودگی شامل ہورہی ہے وہ صرف انسانی صحت ہی نہیں بلکہ معاشرتی طور پر ہر چیز پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صحت کے ساتھ اشیاء کی حالت بھی وقت سے پہلے خراب ہورہی ہے۔  فرد معاشرے کی اکائی ہے، اگر بحیثیت فرد جو ذمے داریاں اپنی ذات اور اطراف کےلیے لاگو ہوتی ہیں، ہم وہی ایمانداری سے ادا کرنے لگ جائیں تو ممکن ہے بہت کچھ تباہ ہونے سے بچ جائے۔ نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل