Loading
وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کا تعاون اب صنعتی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے اور صنعتی تعاون دونوں ممالک کی مشترکہ خوش حالی کا ضامن بنے گا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان صنعتی اور معاشی تبدیلی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، عظیم قومیں ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے نہیں بلکہ اسے تیار اور برآمد کرنے سے ترقی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد صنعت، جدت، برآمدات اور سرمایہ کاری ہیں، ہائسنس اور ایئرلنک کا اشتراک ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی اپ گریڈیشن کی بہترین مثال ہے، یہ شراکت داری سرمایہ کاری سے بڑھ کر مہارتوں کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں پر ہمارا مکمل اعتماد ہے، سندر اسپیشل اکنامک زون میں ایئرلنک کی جدید فیکٹری پاکستانی کاروباری صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، فیکٹریاں صرف عمارتیں نہیں بلکہ اقتصادی ترقی اور جدت کے مراکز ہوتی ہیں۔
ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت مقامی مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کرنے والی صنعتوں کی بھرپور حمایت کر رہی ہے، نیشنل انڈسٹریل پالیسی کے ذریعے صنعتی مسابقت، سرمایہ کاری اور برآمدی نمو کو فروغ دیا جا رہا ہے اور نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت پیداواری لاگت کم اور سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری گیلوٹین اقدام کے ذریعے غیر ضروری ضوابط ختم اور کاروباری عمل آسان بنایا جا رہا ہے، پاکستان کاروبار، جدت اور سرمایہ کاری کے لیے مکمل طور پر کھلا ہے، حکومت کاروبار دوست اور سہولت فراہم کرنے والا ماحول یقینی بنا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کا تعاون اب صنعتی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کے نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، پاکستان چین صنعتی تعاون دونوں ممالک کی مشترکہ خوش حالی کا ضامن بنے گا، معاشی ترقی اسی وقت پائیدار ہوتی ہے جب اس کے ثمرات سب تک پہنچیں۔
معاون خصوصی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، اسمارٹ مینوفیکچرنگ اور جدید ٹیکنالوجیز عالمی معیشت کو نئی شکل دے رہی ہیں، پاکستان درآمدی معیشت سے پیداواری اور صنعتی معیشت کی جانب کامیابی سے گامزن ہے، پاکستان صرف ایک مارکیٹ نہیں بلکہ اب ایک ابھرتا ہوا مینوفیکچرنگ ہب بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس صلاحیت، مواقع اور وژن موجود ہے، یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے، پاکستان کا مستقبل درآمدی اشیا سے نہیں بلکہ مقامی پیداوار، ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع سے وابستہ ہے، صنعت، جدت اور خوش حالی پر مبنی مستقبل پاکستان میں ہی تعمیر ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل