Loading
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے 2 ملزمان کو بری کو دیا۔
سپریم کورٹ میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں عدالت نے دو ملزمان کے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کا سزائے موت کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت نے ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ مقدمہ کا تفصیلی فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا، عدالت نے جاں بحق افراد کے لواحقین کو فریق بنانے کی درخواستیں خارج کر دیں۔
جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ چند لوگوں کو فریق بنایا تو مزید دو سو درخواستیں آ جائیں گی، جتنے فریقین زیادہ ہونگے اتنے ہی وکلاء زیادہ ہونگے۔
جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ نے کہا ایم کیو ایم کا کراچی پر کنٹرول تھا اس لیے گواہان خاموش رہے، زبیر چریا کا اعترافی بیان ہے، عبدالرحمان بھولا کا نہیں، اگر ایم کیو ایم کیلئے بھتا مانگا گیا تھا تو فاروق ستار اور دیگر کی بریت چیلنج کیوں نہیں کی، کسی سیاسی جماعت کا سیکٹر انچارج تبدیل ہونا کونسا جرم ہے؟
جسٹس شہزاد ملک سانحہ بلدیہ ٹاؤن دل دکھا دینے والا واقعہ ہے، نااہلی مالکان کی تھی یا کسی اور کی۔
فروغ نسیم نے مؤقف اپنایا کہ 22اگست 2016 کی تقریر کے بعد الطاف حسین کو ایم کیو ایم سے نکال دیا گیا تھا، الطاف حسین 2015 میں بھی موجود تھے جب مالکان کو بری کرکے ملبہ ایم کیو ایم پر ڈالا گیا۔
جسٹس شہزاد ملک نے ریماکس دیے کہ اگر میں امریکہ کا صدر ہونے کا دعویٰ کروں تو اس کا ثبوت بھی دینا ہوگا، اگر میں کہوں پاکستان کا صدر ہوں تو زرداری صاحب ناراض ہوجائیں گے، تقاریر تو الطاف حسین اس واقعہ سے پہلے بھی کرتے تھے، زبیر چریا کے حوالے سے کسی نے نہیں کہا وہ ایم کیو ایم کا رکن تھا۔
جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ بلدیہ ٹائون فیکٹری میں کیمیکل استعمال ہونے کے شواہد نہیں ملے، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کو مارنا مقصد تھا یہ تو استغاثہ کا کیس ہی نہیں ہے۔
جسٹس ملک شہزاد نے استفسار کیا کہ فیکٹری کا دروازہ لاک کرنے پر کونسا جرم بنتا ہے؟ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ ملزمان کا مقصد بھتہ لینا تھا، ورکرز کو مار کر انہیں کیا ملنا تھا۔
ملزمان پر 11ستمبر 2012 کو بلدیہ فیکٹری میں آگ لگا کر 259 افراد کو زندہ جلانے کا الزام تھا، سانحہ بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی سے 59 افراد زخمی ہوئے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل